مسلمانانِ عالم کے لیے ارضِ مقدس اور حرمین شریفین کا احترام تمام تر مادی و سفارتی مصلحتوں سے بالاتر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی بیت اللہ شریف کے تقدس کو خطرہ لاحق ہوا، قدرت نے غیر معمولی تدبیروں سے اس کی حفاظت فرمائی، جیسا کہ قرآنِ حکیم نے ابرہہ کے لشکر کے مقابلے میں ابابیلوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ دورِ حاضر میں امت مسلمہ کے اندر یہ جذبہ اور ذمہ داری اسی تسلسل کے ساتھ موجود ہے۔
دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کے ناطے، جب بھی حرمین شریفین کی سرزمین پر کوئی آنچ آنے کی بات ہوتی ہے، تو تمام نظریں قدرتی طور پر پاکستان کی دفاعی اور عسکری صلاحیت پر آ ٹھہرتی ہیں۔ پاکستان کا عوام اور ریاستی ڈھانچہ حرمین کے تحفظ کو اپنے ملکی مفادات اور ذاتی ترجیحات سے بالاتر ایمان کا جزو قرار دیتا آیا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے روابط روایتی سفارت کاری کے دائرے سے کہیں وسیع اور دفاعی اعتبار سے نہایت منظم رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عسکری روابط کا باقاعدہ آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا، جب پاکستانی ماہرین نے نوزائیدہ سعودی فوج کی فکری، فنی اور عسکری بنیادیں استوار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سن 1967 کے بعد یہ اشتراک باقاعدہ فریم ورک میں ڈھل گیا، جس کے تحت دونوں ممالک میں تربیتی کورسز اور مشترکہ ماہرین کے تبادلے مستقل بنیادوں پر شروع ہوئے۔
سن 1969 میں جب یمن کی جانب سے جنوبی سرحدوں پر تناؤ پیدا ہوا، تو پاکستانی فضائیہ کے ماہر پائلٹس اور زمینی مشیروں نے سعودی عرب کے دفاعی حصار کو سنبھالا دیا۔ سن 1980 کی دہائی میں اور خصوصاً 1982 کے دوطرفہ معاہدے نے اس عسکری تعاون کو نئی تزویراتی بلندیوں پر پہنچایا، جس کے تحت پاکستانی فوجیوں نے طویل عرصے تک جزیرہ نما عرب کی دفاعی لائن کو مضبوط رکھا۔
آزمائشی گھڑیاں
دفاعی شراکت داری کا سب سے کٹھن امتحان 20 نومبر 1979 کو اس وقت سامنے آیا جب چند مسلح عناصر نے مسجد الحرام کا محاصرہ کر لیا۔ اسلامی سال کے آغاز پر پیش آنے والے اس سانحے نے پورے عالمِ اسلام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس نازک مرحلے پر پاکستانی کمانڈوز اور انٹیلی جنس ماہرین نے سعودی فورسز کو انتہائی حساس تکنیکی و تزویراتی معاونت فراہم کی، تاکہ بیت اللہ کے اندر پھنسے بے گناہ عبادت گزاروں کو کم سے کم نقصان کے ساتھ بازیاب کرایا جا سکے۔
اس بحران کے بعد سعودی دفاعی حکمت عملی میں جو تبدیلیاں آئیں، ان میں بھی پاکستانی تربیت کار پیش پیش رہے۔ بعد ازاں 1990 میں جب کویت پر عراقی فوج کے حملے نے خلیج کے امن کو تہہ و بالا کیا اور سعودی عرب کی جغرافیائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا، تو پاکستان نے ایک بار پھر برادر اسلامی ملک کی خود مختاری اور سالمیت کے لیے اپنی فوجیں سعودی سرحدوں کی حفاظت کی غرض سے روانہ کیں، جس نے ثابت کیا کہ یہ تعلق محض کاغذی نہیں بلکہ خون اور وفا کے رشتوں میں بندھا ہے۔
عصر حاضر کے چیلنجز
آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید تلاطم کا شکار ہے۔ غیر روایتی جنگ، ڈرون و میزائل ٹیکنالوجی کے خطرات اور خطے کے مختلف عناصر کی جانب سے پراکسی تنازعات نے سعودی عرب کی داخلی اور سرحدی سلامتی کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے وقت میں بعض غیر مصدقہ دعوے اور بدلتی ہوئی علاقائی صف بندیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
مسلم دنیا کا بیانیہ آج بھی یہی ہے کہ سرزمینِ حرمین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ پاکستان جہاں اپنی سفارتی قوت کے ذریعے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خطرات کو ٹالنے کی جدوجہد کر رہا ہے، وہیں ایک ایٹمی عسکری ریاست کے طور پر اس کا تزویراتی وزن سعودی عرب کے لیے ایک مضبوط دفاعی ڈھال کا درجہ رکھتا ہے۔ بدلتے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان اپنے تاریخی فریضے کو نبھاتے ہوئے دفاعِ حرمین کے عزم کا مسلسل مظاہرہ کرے اور امت مسلمہ کے وسیع تر امن و سلامتی کے لیے متوازن، مگر واضح اور غیر متزلزل کردار جاری رکھے۔