پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قائم کیے گئے بین الاقوامی فورم ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کی امریکی دعوت باضابطہ طور پر قبول کر لی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو اس بورڈ کا حصہ بننے کی دعوت دی تھی، جسے پاکستان نے قبول کر لیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا بنیادی مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
🔊PR No.2️⃣2️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 21, 2026
Pakistan Accepts Invitation for Joining the Board of Peace BoP with the View to Achieving Lasting Peace in Gaza https://t.co/BX4ufJoPRW
🔗⬇️ pic.twitter.com/9JfOoyyfsC
ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں فوری اور نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھ درد کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پلیٹ فارم سے امن کے قیام کے لیے عملی پیش رفت کی امید ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا مختلف عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں، جبکہ اس میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اگرچہ ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرۂ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں رکھا گیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق دستیاب دستاویزات سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ادارہ مستقبل میں اقوام متحدہ کے متبادل یا حریف کے طور پر بھی ابھرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔