امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کا سہولت کار کے طور پر فعال کردار؛ ایرانی میڈیا پر اٹھنے والے سوالات کے برعکس پاکستان کا موقف ہے کہ سفارت کاری دکھاوے کے بجائے عمل کی شفافیت اور کشیدگی میں کمی کے لیے وقف ہے۔

April 22, 2026

ڈیورنڈ لائن پر افغان سیاسی بیانیے میں بڑی تبدیلی؛ اہم افغان شخصیات اور محققین نے ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتے ہوئے ‘پشتونستان’ کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ ماہرین کے مطابق خطے کا استحکام جذباتی نعروں کے بجائے جغرافیائی حقیقتوں اور سرحدی احترام میں پوشیدہ ہے۔

April 22, 2026

امریکی صدر پر جوہری کوڈز کے استعمال کی کوشش کا مبینہ الزام؛ وائٹ ہاؤس نے تمام دعوؤں کو ‘جھوٹا’ قرار دے کر مسترد کر دیا، پینٹاگون کے ایٹمی چیف کی برطرفی کی خبروں نے واشنگٹن میں کھلبلی پیدا کر دی۔

April 22, 2026

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں دو غیر ملکی بحری جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ؛ ایران کے مطابق بحری جہاز بحری تحفظ کو خطرے میں ڈالنے اور جہاز رانی کے قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث تھے۔

April 22, 2026

بھارتی تجزیہ کار برہما چیلانی کا “جوہری اسلام پسندی” کا نظریہ مسترد؛ پاکستان اور ایران کے جوہری پروگراموں کا موازنہ قانونی اور تزویراتی طور پر ناقص قرار، ماہرین کے مطابق اصل دوہرا معیار بھارت کو دی جانے والی عالمی رعایتوں میں پوشیدہ ہے۔

April 22, 2026

پاکستان سے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری؛ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ پر حکام کا ردِعمل، چار دہائیوں کی میزبانی کے بعد اب منظم امیگریشن کنٹرول اور عالمی قوانین کے تحت مرحلہ وار واپسی کی پالیسی پر عمل درآمد۔

April 22, 2026

جبری بے دخلی نہیں، قانونی تقاضوں کی تکمیل: پاکستان کا افغان مہاجرین کی واپسی پر اصولی مؤقف

پاکستان سے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری؛ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ پر حکام کا ردِعمل، چار دہائیوں کی میزبانی کے بعد اب منظم امیگریشن کنٹرول اور عالمی قوانین کے تحت مرحلہ وار واپسی کی پالیسی پر عمل درآمد۔
پاکستان سے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری؛ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ پر حکام کا ردِعمل، چار دہائیوں کی میزبانی کے بعد اب منظم امیگریشن کنٹرول اور عالمی قوانین کے تحت مرحلہ وار واپسی کی پالیسی پر عمل درآمد۔

پاکستان نے افغان مہاجرین کی 40 سالہ میزبانی کے بعد غیر دستاویزی افراد کی واپسی کو عالمی قوانین کے عین مطابق قرار دے دیا؛ مغربی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی پالیسی انسانی ہمدردی اور مرحلہ وار طریقہ کار پر مبنی ہے۔

April 22, 2026

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ‘ہیومن رائٹس واچ’ نے پاکستان سے افغان باشندوں کی واپسی کے عمل پر ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں 2026 کے دوران تقریباً 1 لاکھ 46 ہزار افغانوں کی واپسی اور سکیورٹی اداروں کی کاروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستان کے سفارتی اور قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل کسی ہنگامی یا جبری بے دخلی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل مدتی اور مرحلہ وار قانونی فریم ورک کے اختتام پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔

چار دہائیوں کی بے مثال میزبانی

پاکستان نے گزشتہ 40 سال سے زائد عرصے تک 40 لاکھ سے زیادہ افغان باشندوں کی میزبانی کی ہے، جو دنیا میں مہاجرین کی سب سے بڑی اور طویل ترین میزبانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان نے 1951 کے مہاجر کنونشن کا دستخط کنندہ نہ ہونے کے باوجود دہائیوں تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان شہریوں کو پناہ دی اور ان کی رہائشی دستاویزات میں بارہا توسیعات جاری رکھیں۔

قانونی دستاویزات کا ارتقاء اور خاتمہ

پاکستان میں افغان آبادی کو تین بنیادی زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں پی او آر اور اے سی سی کارڈ ہولڈرز شامل تھے۔ 13 لاکھ رجسٹرڈ افغانوں کے لیے پی او آر کارڈز کی آخری توسیع 30 جون 2024 کو ختم ہوئی، جبکہ 8 لاکھ اے سی سی کارڈ ہولڈرز کے لیے پالیسی 2023 کے بعد غیر مؤثر ہو گئی۔ یہ تمام قانونی فریم ورک کئی برسوں کے دوران بتدریج ختم ہوئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے غیر ملکیوں کو اپنی حیثیت قانونی بنانے یا واپسی کی تیاری کے لیے کافی وقت فراہم کیا۔

امیگریشن کنٹرول کی ضرورت

حالیہ اقدامات کا بنیادی ہدف وہ 15 سے 20 لاکھ غیر دستاویزی افغان باشندے ہیں جو ابتدا ہی سے کسی قانونی تحفظ کے دائرے میں نہیں تھے۔ پاکستان اب انسانی ہمدردی پر مبنی غیر معینہ میزبانی سے ایک منظم ‘امیگریشن کنٹرول’ کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جو کہ دنیا کی تمام خود مختار ریاستوں کا بنیادی حق ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واپسی دراصل عارضی قیام کی مدت ختم ہونے کے بعد کا ایک انتظامی عمل ہے، نہ کہ مستقل پناہ کے حقوق کی خلاف ورزی۔

بے دخلی کا موازنہ

پاکستان کی پالیسی کا اگر عالمی سطح پر موازنہ کیا جائے تو مغربی ممالک کے نظام کہیں زیادہ سخت نظر آتے ہیں۔ 2023 کے بعد سے امریکہ نے 6 سے 8 لاکھ، یورپی یونین نے 3 لاکھ 30 ہزار اور برطانیہ نے 80 ہزار سے زائد افراد کو ڈی پورٹ کیا ہے۔ مغربی ممالک میں حراست، جبری بے دخلی اور تیسرے ممالک کو منتقلی جیسے اقدامات کے مقابلے میں پاکستان کی پالیسی مرحلہ وار اور پیشگی اطلاع پر مبنی ہے، جو اسے عالمی سطح پر نسبتاً نرم بناتا ہے۔

مستقل حل

موجودہ حالات میں افغانستان اب اس نوعیت کی عمومی جنگی صورتحال میں نہیں ہے جو ابتدائی نقل مکانی کی بنیادی وجہ بنی تھی، لہٰذا قانونی اور انسانی تناظر میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس مسئلے کا پائیدار حل اب افغانستان کے اندر بحالی کے کاموں اور عالمی برادری کی جانب سے ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم میں پوشیدہ ہے، تاکہ مہاجرین کی اپنے وطن واپسی اور وہاں ان کی آباد کاری کو ممکن بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کا سہولت کار کے طور پر فعال کردار؛ ایرانی میڈیا پر اٹھنے والے سوالات کے برعکس پاکستان کا موقف ہے کہ سفارت کاری دکھاوے کے بجائے عمل کی شفافیت اور کشیدگی میں کمی کے لیے وقف ہے۔

April 22, 2026

ڈیورنڈ لائن پر افغان سیاسی بیانیے میں بڑی تبدیلی؛ اہم افغان شخصیات اور محققین نے ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتے ہوئے ‘پشتونستان’ کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ ماہرین کے مطابق خطے کا استحکام جذباتی نعروں کے بجائے جغرافیائی حقیقتوں اور سرحدی احترام میں پوشیدہ ہے۔

April 22, 2026

امریکی صدر پر جوہری کوڈز کے استعمال کی کوشش کا مبینہ الزام؛ وائٹ ہاؤس نے تمام دعوؤں کو ‘جھوٹا’ قرار دے کر مسترد کر دیا، پینٹاگون کے ایٹمی چیف کی برطرفی کی خبروں نے واشنگٹن میں کھلبلی پیدا کر دی۔

April 22, 2026

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں دو غیر ملکی بحری جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ؛ ایران کے مطابق بحری جہاز بحری تحفظ کو خطرے میں ڈالنے اور جہاز رانی کے قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث تھے۔

April 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *