سوشل میڈیا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوہری کوڈز کے حوالے سے گردش کرنے والی سنسنی خیز خبروں نے واشنگٹن کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ان تمام دعوؤں کو قطعی طور پر ‘جھوٹا’ اور ‘بے بنیاد’ قرار دیتے ہوئے ان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
الزامات کا پس منظر
ان افواہوں کا آغاز سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار لیری جانسن کے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ بیان سے ہوا۔ لیری جانسن نے الزام لگایا کہ ایران کے بحران پر ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے ‘نیوکلیئر کوڈز’ تک رسائی یا ان کے استعمال کی کوشش کی۔ دعوے کے مطابق اس موقع پر اجلاس شدید تلخی کا شکار ہوا جب جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایک مبینہ صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد کے سامنے مزاحمت کی۔
ایٹمی چیف کی مبینہ برطرفی
انہی خبروں کے تسلسل میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس مبینہ واقعے کے بعد امریکی ایٹمی چیف اینڈریو ہگ کو پینٹاگون سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف غیر مصدقہ ویڈیوز اور رپورٹس گردش کر رہی ہیں، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پینٹاگون کی قیادت اور وائٹ ہاؤس کے درمیان جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔
BREAKING: US Nuclear Chief Andrew Hugg ESCORTED out of the Pentagon.
— Douglas Macgregor (@DougAMacgregor) April 21, 2026
وائٹ ہاؤس کا ردِعمل
وائٹ ہاؤس نے ان خبروں پر فوری ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام باتیں من گھڑت ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حساس قومی سلامتی کے امور پر اس قسم کی افواہیں پھیلانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ دوسری جانب پینٹاگون نے تاحال ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے، تاہم معتبر نیوز ویب سائٹس کا کہنا ہے کہ اینڈریو ہگ کی برطرفی یا صدر کی جانب سے کوڈز کے استعمال کی کوشش کے حق میں اب تک کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب نہیں ہو سکے۔
عالمی میڈیا کی رائے
دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں اس قسم کی خبریں بین الاقوامی سطح پر ہیجان پیدا کرنے کی کوشش ہو سکتی ہیں۔ فی الحال واشنگٹن میں صورتحال بظاہر معمول پر ہے، لیکن ان افواہوں نے امریکی جوہری پروٹوکولز اور سویلین و عسکری قیادت کے تعلقات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔