اسلام آباد: پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد بتایا کہ دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کو انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ فوری طور پر دشمنی کا خاتمہ، امن مذاکرات کی بحالی، شہریوں کا تحفظ اور بحری راستوں کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
Update: #China & #Pakistan reaffirmed Friday the importance of restoring peace & stability in the #ME and wider region, with both sides agreeing to continue working toward resolving all disputes through dialogue and diplomacy, Pakistani FM @MIshaqDar50 posted on X after a phone… pic.twitter.com/FvsFWkDxAz
— Ayaz Gul (@AyazGul64) March 27, 2026
اسحاق ڈار کے مطابق دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینے پر بھی اتفاق کیا۔
دوسری جانب امریکا پہلے ہی تصدیق کر چکا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور صدر ٹرمپ کا 15 نکاتی فریم ورک بھی پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا۔
ادھر جرمن وزیر خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ براہ راست مذاکرات جلد اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں، جس سے پاکستان کا سفارتی کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور چین کی ہم آہنگی خطے میں امن کے لیے ایک مضبوط سفارتی بلاک کی شکل اختیار کر رہی ہے، جبکہ اسلام آباد عالمی سطح پر ایک اہم مذاکراتی مرکز کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔
دیکھئیے:مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا ثالثی کردار قابلِ ستائش ہے، چین کا اعتراف