حالیہ دنوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور تزویراتی حکمتِ عملی نے عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور ترکیہ کا فعال کردار اور ‘ثالث’ کے طور پر ابھرنا صیہونی مفادات کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ جہاں ایک جانب عالمی برادری پاکستان کے متوازن مؤقف کی معترف ہے، وہیں دوسری طرف اسرائیل نواز حلقے اور موساد سے وابستہ عناصر پاکستان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا پھیلانے سے باز نہیں آ رہے۔
صیہونی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ سے منسوب اکاؤنٹس نے حال ہی میں پاکستان کی تضحیک کرتے ہوئے ایک بیانیہ پیش کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ “دنیا کو پاکستان کی پرواہ نہیں” اور پاکستان کی ممکنہ مشکلات کو “خوشی کا لمحہ” قرار دیا گیا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق یہ ٹویٹس خالصتاً ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں تاکہ پاکستانی عوام میں مایوسی پھیلائی جائے اور پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا دکھایا جا سکے۔ حقیقت میں یہ اس صیہونی خوف کا اظہار ہے جو پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور مسلم امہ میں اس کے کلیدی مقام سے پیدا ہوتا ہے۔
صیہونیت کا پیروکار
اس صیہونی مہم کا ہراول دستہ متحدہ عرب امارات سے وابستہ متنازع تجزیہ نگار امجد طہٰ ہیں، جن کا اصل چہرہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ امجد طہٰ نے اپنی تازہ ترین ٹویٹ میں پاکستان اور ترکیہ کو ‘ماضی کا حصہ’ قرار دے کر صیہونی ایجنڈے کے عین مطابق عرب ممالک کو اکسانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ ان کا یہ بیانیہ نیتن یاہو کے ان عزائم کی بازگشت ہے جو خطے میں امن کے بجائے انتشار کے خواہاں ہیں تاکہ ‘گریٹر اسرائیل’ کے نقشے میں رنگ بھرا جا سکے۔

درج بالا تصاویر اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ مسلم امہ کے مفادات کے بجائے مکمل طور پر اسرائیل کے ایجنڈے کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ ان تصاویر میں امجد طہٰ کو اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے حاضر سروس افسران کے ساتھ انتہائی خوشگوار موڈ میں، اسرائیلی سفارت کاروں اور اعلیٰ حکام کے ساتھ بند کمرے کی تزویراتی ملاقاتوں میں، اور یہاں تک کہ ہوائی اڈے پر اسرائیلی پرچم کے ساتھ صیہونی ریاست کے قیام اور نارملائزیشن کی مہم چلاتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مشکوک ملاقاتیں اور صیہونی قیادت سے اس کا تسلسل کے ساتھ قریبی میل جول اس کے اصل کردار اور نیتوں کو پوری طرح بے نقاب کر دیتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطے میں کس کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔
مشکوک زندگی اور کردار
تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق امجد طہٰ کی زندگی تضادات اور مشکوک سرگرمیوں سے بھری ہوئی ہے۔ برطانوی نژاد امجد طہٰ، جن کا تعلق برمنگھم سے رہا ہے، ماضی میں مختلف شناختیں بدلتے رہے ہیں۔ وہ خود کو تزویراتی امور کا ماہر ظاہر کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ ایک ‘ڈس انفلوئنسر’ ہیں جو مسلسل غلط اور من گھڑت معلومات پھیلاتے ہیں۔ فروری 2025 میں برطانوی عدالتوں نے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا جب جی بی نیوز کو ان کے غلط الزامات کی وجہ سے ایک مسلم چیریٹی سے معافی مانگنی پڑی۔ امجد طہٰ کے پاس کوئی اعلیٰ تعلیمی ڈگری نہیں ہے، بلکہ وہ محض ‘کریڈنشل لانڈرنگ’ کے ذریعے اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کرتے ہیں۔
امجد طہٰ کے بیانیے کا رد
امجد طہٰ کا پاکستان اور ترکیہ کو “ماضی” قرار دینا دراصل تاریخ سے ناواقفیت اور صیہونی ذہنی غلامی کا ثبوت ہے۔ پاکستان دنیا کی واحد مسلم ایٹمی قوت ہے جس کی فوج اور تزویراتی محلِ وقوع اسے عالمی سیاست کا ‘ناگزیر محور’ بناتے ہیں۔ ترکیہ اپنی جیوسٹریٹجک پوزیشن اور دفاعی صنعت کی وجہ سے یورپ اور ایشیا کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی وہ ‘کرائے کے قلم کار’ ہوتے ہیں جو وقت بدلتے ہی اپنی شناخت بدل لیتے ہیں، جبکہ ریاستیں اپنے جغرافیے اور طاقت کے بلبوتے پر مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں۔
پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش
امجد طہٰ کا یہ تاثر دینا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان سے دور ہو رہا ہے، سراسر لغو ہے۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کی بنیادیں مشترکہ تاریخ، مذہب اور معیشت پر استوار ہیں۔ 16 لاکھ سے زائد پاکستانی یو اے ای کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امجد طہٰ جیسے صیہونی ایجنٹ اپنی زہریلی ٹویٹس کے ذریعے ان فولادی تعلقات کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ ان کا بیانیہ دراصل خلیجی قیادت کو گمراہ کرنے کی ایک سازش ہے تاکہ وہ اپنے دیرینہ برادر ممالک سے کٹ کر صیہونی حصار میں آ جائیں۔
اسلامی اتحاد کے خلاف منظم سازش
امجد طہٰ کا کردار ایک ایسے ‘گرگٹ’ کا ہے جو سیاسی ضرورت کے تحت اپنی وفاداری بدل لیتا ہے۔ کبھی بحرینی اور کبھی اماراتی لباس میں چھپا یہ شخص دراصل موساد کے ‘پے رول’ پر مامور ایک ایسا مہرہ ہے جس کا کام مسلم ممالک کو آپس میں لڑانا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے مصالحتی کوششوں کے خلاف ان کی زہر افشانی دراصل اس صیہونی خوف کا ثبوت ہے کہ اگر مسلمانوں میں اتحاد ہو گیا تو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم خاک میں مل جائیں گے۔
پاکستان کی مقتدرہ اور عوام ان صیہونی آلہ کاروں کی چالوں سے بخوبی واقف ہیں۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں، جسے امجد طہٰ جیسے چند تنخواہ دار ایجنٹ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ پاکستان ایک خوددار ایٹمی قوت ہے جو ایسے مہروں کے بیانات کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ پاکستان کی سفارت کاری کا سفر کامیابی سے جاری رہے گا اور صیہونی لابی کی یہ تمام سازشیں دم توڑ دیں گی۔ پاکستان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے؛ ہم ان تمام سازشوں کو بے نقاب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کا تعاون ناگزیر ہے: پاکستان