کراچی: بیرونی ادائیگیوں کے توازن اور ڈپازٹس رول اوور ہونے کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 8 مئی تک ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 4 کروڑ 32 لاکھ ڈالر کے اضافے کے بعد 21 ارب 33 کروڑ 67 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے اپنے ذاتی ذخائر ایک کروڑ 67 لاکھ ڈالر کے اضافے کے ساتھ 15 ارب 86 کروڑ 74 لاکھ ڈالر ہو چکے ہیں۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں آئی ایم ایف قسط کے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پانڈا بانڈز کے اجراء سے مزید 25 کروڑ ڈالر ملنے کی قوی امید ہے۔ ان متوقع فنڈز سے ملکی معیشت کو مزید سہارا ملے گا۔
مرکزی بینک کے ساتھ ساتھ کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اس ہفتے بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ مئی کے پہلے ہفتے کے دوران کمرشل بینکوں کے ذخائر 2 کروڑ 65 لاکھ ڈالر بڑھ کر 5 ارب 46 کروڑ 93 لاکھ ڈالر ہو گئے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عیدِ قربان کے سیزن کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلاتِ زر میں روایتی اضافہ بھی اس بہتری کی بڑی وجہ ہے۔
حکومتی حلقوں کو توقع ہے کہ ان مثبت اشاریوں کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر رواں مالی سال کے لیے مقررہ 18 ارب ڈالر کے ہدف کے انتہائی قریب پہنچ جائیں گے۔ ذخائر میں یہ استحکام ملکی معیشت پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس سے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بھی کم ہوگا۔
دیکھئیے:پاکستان ڈیجیٹل سرمایہ کاری کا مرکز بن رہا ہے: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار