جنرل سید عامر رضا نے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا منصب سنبھال لیا؛ جی ایچ کیو آمد پر گارڈ آف آنر، یادگارِ شہداء پر حاضری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات۔

July 28, 2026

افغانستان کے صوبے سرِ پل کے مرکز میں نامعلوم مسلح افراد کا طالبان اہلکاروں پر حملہ؛ فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالبان اہلکار ہلاک جبکہ تین شدید زخمی۔

July 28, 2026

سعودی عرب سے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے، قطر کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری اور کویت کے ساتھ پیش رفت سے خلیج میں پاکستان کا روایتی و تاریخی کردار بحال؛ سول و عسکری قیادت کی مربوط حکمتِ عملی کا مظہر۔

July 28, 2026

رپورٹ کے مطابق مامو چنہ، کوہِ کالا گاؤں اور یک کنڈو پہاڑی سلسلے کے علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم جماعت الاحرار کے کارندے آپس میں ہی گتھم گتھا ہو گئے۔

July 28, 2026

بدخشاں اور نیمروز میں تیزی سے پھیلتی عسکری مزاحمت، عالمِ دین کا شدید مذہبی فتویٰ اور افغان بچوں کا عسکری استعمال؛ طالبان حکومت شدید داخلی اور بقائی بحران کی زد میں۔

July 28, 2026

بھارتی طلبہ تنظیم کاکروچ پارٹی نے حکومت پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ملک گیر احتجاج دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی، سینکڑوں گرفتاریوں کا دعویٰ۔

July 28, 2026

عرب ممالک کا پاکستان پر اعتماد: خلیج میں دفاعی شراکت داری کا نیا باب

سعودی عرب سے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے، قطر کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری اور کویت کے ساتھ پیش رفت سے خلیج میں پاکستان کا روایتی و تاریخی کردار بحال؛ سول و عسکری قیادت کی مربوط حکمتِ عملی کا مظہر۔
عرب ممالک کا پاکستان پر دیرینہ اعتماد: خلیج میں سیکیورٹی شراکت داری کا نیا باب

مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں خلیجی ممالک کا پاکستان پر دیرینہ اعتماد۔ سعودی عرب، قطر اور کویت کے ساتھ دفاعی و سفارتی پیش رفت کے تحت پاکستان خلیج کے سکیورٹی ڈھانچے کا مرکزی ستون بن کر ابھرا ہے۔

July 28, 2026

گزشتہ کچھ عرصے سے یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب اور خلیجی پانیوں کے اردگرد پے در پے حملوں نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہوں پر خطرات، تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں اور علاقائی کشیدگی نے خلیجی ریاستوں، بالخصوص سعودی عرب، کو اپنی سلامتی کی حکمتِ عملی از سرِ نو ترتیب دینے پر مجبور کیا ہے۔ ایسے حالات میں سعودی عرب کی نظریں ایک ایسے قابلِ اعتماد، تجربہ کار اور نظریاتی طور پر قریب ملک کی طرف اٹھیں جس کے ساتھ اس کا رشتہ دہائیوں پرانا ہے اور یہ ملک پاکستان ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں پاکستان نے اپنی سفارتی اور عسکری حکمتِ عملی کو ایک نئی جہت دی، اور آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے: قطر، کویت اور سعودی عرب سمیت پورے خلیجی خطے میں پاکستان کی حیثیت ایک ایسے شراکت دار کی بن چکی ہے جسے سلامتی، دفاع اور علاقائی استحکام کے معاملات میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سعودیہ کے ساتھ معاہدہ

اس پوری حکمتِ عملی کی سب سے مضبوط اینٹ اس وقت رکھی گئی، جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کی سب سے نمایاں شق یہ تھی کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

یہ محض ایک روایتی سفارتی دستاویز نہیں بلکہ عملی طور پر ایک باہمی دفاعی ضمانت تھی، جس نے پاکستان کو خطے میں ایک ایسی حیثیت دی جو اس سے پہلے کسی مسلم ملک کو حاصل نہیں تھی۔ مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک کی 8 دہائیوں پر محیط تاریخی رفاقت، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کا خصوصی ذکر کیا گیا۔

اس معاہدے سے قبل ہونے والی ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی موجودگی خود اس بات کی غماز تھی کہ یہ محض سیاسی رسمی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کی مکمل سول۔ ملٹری قیادت کا مشترکہ اور یکجا فیصلہ تھا۔ سعودی شاہی محل میں گارڈ آف آنر کی پیشکش اور فضائیہ کے ایف-15 لڑاکا طیاروں کی جانب سے فضائی پروٹوکول اس معاہدے کو دیے گئے غیر معمولی درجے کی علامت تھی۔

قطر اور کویت کی جانب پیش قدمی

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کی خارجہ اور سلامتی پالیسی نے جس تسلسل کے ساتھ خلیجی خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا، وہ ایک منظم اور مضبوط حکمتِ عملی کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔

آج (28 جولائی 2026) کو ہی دوحہ میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور قطری وزیرِ داخلہ شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ آل ثانی کے درمیان ملاقات میں داخلی سلامتی کے شعبے میں دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے نہ صرف سکیورٹی تعاون بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال، علاقائی امن اور استحکام پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔ یہ ملاقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اب صرف سعودی عرب تک محدود نہیں بلکہ خلیجی تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ بھی اپنی سکیورٹی شراکت داری کو ادارہ جاتی شکل دے رہا ہے۔

اسی تسلسل میں کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح آج سے 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں، جو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر ہو رہا ہے۔ اس دورے کی خاص بات یہ ہے کہ اس سے قبل کویت پہلے ہی پاکستان کے ساتھ ایک دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے چکا ہے۔

موجودہ دورے میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی و تجارتی تعاون، سرمایہ کاری اور مشرقِ وسطیٰ سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ رواں ماہ 18 جولائی کو ہی دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہو چکا تھا، جس میں کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی استحکام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل میں پاکستان کے تعمیری و مصالحتی کردار کو سراہا تھا۔

حکمتِ عملی کا زاویہ

ان تینوں پیش رفتوں میں سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، قطر کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری کی تجدید، اور کویت کے ساتھ دفاعی و سفارتی تعلقات کی مضبوطی کو اگر ایک ہی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے۔ خطے کو حوثی باغیوں کی جانب سے لاحق خطرات، بحیرہ احمر کی غیر یقینی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی نے خلیجی ریاستوں کو ایک ایسے ملک کی ضرورت کا احساس دلایا جو:

ایک ایٹمی طاقت رکھنے والا مسلم ملک ہو،

جس کی فوج کو دنیا کی بہترین اور تجربہ کار افواج میں شمار کیا جاتا ہو،

اور جس کی خارجہ پالیسی مذاکرات اور مصالحت پر یقین رکھتی ہو، نہ کہ محاذ آرائی پر۔

اسی خلا کو پاکستان نے اپنی سفارتی مہارت اور عسکری قیادت کی بروقت رابطہ کاری سے پر کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں فوجی سفارت کاری اور اسحاق ڈار و محسن نقوی کی سطح پر سول سفارت کاری نے مل کر ایک ایسا امتزاج تشکیل دیا جس نے پاکستان کو محض ایک معاون ملک کے بجائے خطے کے سکیورٹی ڈھانچے میں ایک مرکزی ستون کے طور پر منوایا۔

یمن کی صورتحال، حوثی باغیوں کے حملے اور اس سے پیدا ہونے والی خلیجی بے چینی کے تناظر میں خلیجی ممالک کا پاکستان کی طرف دیکھنا دراصل دونوں خطوں کے شاندار ماضی، دیرینہ اعتماد اور گہرے تاریخی تعلقات کا ہی ایک تسلسل ہے۔ پاکستان کا درخشاں ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ برادر عرب ممالک نے ہر سکیورٹی چیلنج کے موقع پر ہمیشہ پاکستان کی جانب دیکھا ہے، اور یہی روشن روایات آج اس کے باوقار مستقبل کی ضامن بن رہی ہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ باضابطہ دفاعی معاہدہ، قطر کے ساتھ سکیورٹی تعاون کی تجدید اور کویت کے ساتھ دفاعی و سفارتی تعلقات کی مضبوطی یہ تینوں پیش رفتیں اسی تاریخی اعتماد کا مظہر ہیں جو پاکستان کو خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے لیے ایک ناگزیر اور محترم سیکیورٹی پارٹنر بناتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

جنرل سید عامر رضا نے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا منصب سنبھال لیا؛ جی ایچ کیو آمد پر گارڈ آف آنر، یادگارِ شہداء پر حاضری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات۔

July 28, 2026

افغانستان کے صوبے سرِ پل کے مرکز میں نامعلوم مسلح افراد کا طالبان اہلکاروں پر حملہ؛ فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالبان اہلکار ہلاک جبکہ تین شدید زخمی۔

July 28, 2026

رپورٹ کے مطابق مامو چنہ، کوہِ کالا گاؤں اور یک کنڈو پہاڑی سلسلے کے علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم جماعت الاحرار کے کارندے آپس میں ہی گتھم گتھا ہو گئے۔

July 28, 2026

بدخشاں اور نیمروز میں تیزی سے پھیلتی عسکری مزاحمت، عالمِ دین کا شدید مذہبی فتویٰ اور افغان بچوں کا عسکری استعمال؛ طالبان حکومت شدید داخلی اور بقائی بحران کی زد میں۔

July 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *