"> پاکستان کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی، گریٹر اسرائیل منصوبہ ناکام - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی، گریٹر اسرائیل منصوبہ ناکام

پاکستان اور اتحادی مسلم ممالک کی فعال سفارت کاری کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسلام آباد مذاکرات کے بعد خطے میں جنگ بندی عمل میں آئی ہے۔
پاکستان اور اتحادی مسلم ممالک کی فعال سفارت کاری کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسلام آباد مذاکرات کے بعد خطے میں جنگ بندی عمل میں آئی ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں توسیعی عزائم ناکام بنا دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد معاہدے کے تحت خطے میں جنگ بندی اور پائیدار توازن قائم ہو گیا ہے۔

July 14, 2026

پاکستانی قیادت اور اتحادی مسلم ممالک کی فعال سفارت کاری کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کا توسیعی منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے نتیجے میں خطے میں باقاعدہ جنگ بندی عمل میں آ گئی ہے جس نے پورے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے تنازع کو بنیاد بنا کر غزہ کے مستقل الحاق، فلسطینیوں کی بے دخلی، لبنان میں پیش قدمی اور شام میں عسکری انفراسٹرکچر تباہ کر کے وسیع علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کی جارحانہ کوشش کی تھی۔ تاہم پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے مضبوط سفارتی اتحاد نے ان عزائم کو ناکام بنا دیا۔

دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے جون 2025 اور فروری 2026 میں ایران کے خلاف وسیع فوجی مہم کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیلنا تھا۔ اسرائیل کو توقع تھی کہ خلیجی ممالک اور ترکیہ اس تصادم کا حصہ بنیں گے، جس سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کا فائدہ اسرائیل اٹھائے گا۔

پاکستان نے اس سٹریٹجک خطرے کو وقت سے پہلے بھانپتے ہوئے سعودی عرب کو براہِ راست عسکری مہم جوئی سے دور رہنے کا مشورہ دیا، جس کے باعث دیگر خلیجی ریاستیں بھی تصادم سے محفوظ رہیں۔ پاکستان نے تہران کو پسِ پردہ یقین دلایا کہ سعودی سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، جس سے مسلم ممالک کے مابین غلط فہمیاں پیدا نہ ہو سکیں۔

بحران کے حل کے لیے 29 مارچ کو اسلام آباد میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کا چار فریقی اجلاس ہوا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی ان انتھک کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا اور 45 روزہ روڈ میپ کے تحت جنگ بندی کا اعلان ممکن ہوا۔

اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے تحت جہاں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے کی توثیق کی گئی، وہی واشنگٹن نے بھی فوجی ڈیڈ لائن سے قبل اس جنگ بندی کو تسلیم کیا۔ جنگ بندی کے بعد امریکا کی جانب سے ابراہیمی معاہدے میں توسیع کی تجویز دی گئی تھی، جسے پاکستان نے یکسر مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اپنا اصولی موقف برقرار رکھا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *