امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں پاکستان کو ایک کلیدی اور بااعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی قانون سازوں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، عسکری قوت اور عالمی روابط اسے خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے ایک منفرد اور موزوں ترین فریق بناتے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی اہمیت
کانگریشنل پاکستان کاکس کی خصوصی ورچوئل بریفنگ کے دوران امریکی رکنِ کانگریس ٹام سوازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک اہم غیر جانبدار فریق” ہے جس کے دونوں جانب گہرے دوستانہ مراسم موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اب پاکستان کو محض سکیورٹی کے تناظر میں نہیں بلکہ ایک وسیع سفارتی اثر و رسوخ رکھنے والی ریاست کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ٹام سوازی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، بڑی فوج اور اہم تزویراتی محلِ وقوع اسے امریکی خارجہ پالیسی میں کلیدی حیثیت عطا کرتے ہیں، اور پاکستان میں استحکام عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستانی سفیر کا موقف: باوقار امن کی خواہش
اس موقع پر امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے پاکستان کی سفارت کاری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر فریقین پاکستان سے مدد کے خواہاں ہیں تو اسلام آباد ثالثی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں بامعنی اور باوقار امن کا خواہاں ہے اور تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ بریفنگ میں یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے، جو اس کی داخلی اور سرحدی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
اقتصادی تعلقات اور ویزا مسائل
ٹام سوازی نے پاک امریکہ اقتصادی تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، تاہم سیکیورٹی خدشات اور بیوروکریٹک رکاوٹیں اس راہ میں حائل ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تجارتی فروغ سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اس کے علاوہ، امریکی ویزا کے حصول میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو کانگریس کے دیگر اراکین کے ساتھ مل کر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ امیگرینٹ ویزا کے عمل کو سہل بنایا جا سکے۔
دیکھیے: بھارت کی جارحانہ پالیسی بے نقاب، لندن میں صحافی صفینہ خان کو قتل کی سنگین دھمکیاں