خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

July 3, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 خوارج کو ہلاک کر دیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

July 3, 2026

بھارت کی جارحانہ پالیسی بے نقاب، لندن میں صحافی صفینہ خان کو قتل کی سنگین دھمکیاں

لندن میں پاکستانی نژاد صحافی صفینہ خان کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد برطانوی حکام سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ یہ دھمکی بھارتی اکاؤنٹ کی جانب سے دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے
لندن میں پاکستانی نژاد صحافی صفینہ خان کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد برطانوی حکام سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ یہ دھمکی بھارتی اکاؤنٹ کی جانب سے دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے

لندن میں صحافی صفینہ خان کو دھمکیوں کا سامنا، مبینہ طور پر بھارت سے منسلک اکاؤنٹس پر سنگین الزامات، برطانوی پولیس سے تحقیقات کا مطالبہ

March 27, 2026

برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد خاتون صحافی اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن صفینہ خان کو جان سے مارنے کی سنگین دھمکیوں نے عالمی سطح پر بھارت کی اس جارحانہ پالیسی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جسے بین الاقوامی ماہرین ‘ماورائے سرحد جبر’ کا نام دے رہے ہیں۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی دھمکی نہیں بلکہ مودی حکومت کی اس عالمی حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس کے تحت غیر ملکی سرزمین پر ریاست کے ناقدین اور صحافیوں کو خاموش کرانے کے لیے دباؤ، دھونس اور تشدد کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

صفینہ خان نے اپنی ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایک مخصوص انتہاء پسند اکاؤنٹ کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں کھلم کھلا دعویٰ کیا گیا کہ “نامعلوم مسلح افراد جلد لندن کی سڑکوں پر صفینہ خان سے ملاقات کریں گے”۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر صفینہ خان نے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس اور ٹوئیٹر تحفظ کے شعبے سے فوری تحقیقات اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت کی جارحانہ کی پالیسی

سفارتی و دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ واقعہ بھارت کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ اپنی سرحدوں سے باہر مقیم مخالفین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے “نامعلوم افراد” کا سہارا لیتا ہے۔ ماہرین اسے عالمی سطح پر ‘بھارتی خوف کی برآمد’ قرار دے رہے ہیں، جہاں ریاستی بیانیے سے اختلاف کرنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے ‘جبر پر مبنی قوم پرستی’ کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔

برطانوی سرزمین پر ایک صحافی کو اس طرح ہراساں کرنا برطانوی خود مختاری اور عالمی سطح پر آزادیِ اظہارِ رائے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ یہ واقعہ کینیڈا اور امریکہ میں حالیہ سازشوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں مخالفین کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔

سفارتی تنہائی

تجزیہ کاروں کے مطابق مودی نظریات کی ناکامی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی نے بھارتی حلقوں میں بوکھلاہٹ پیدا کر دی ہے، جس کا نتیجہ اس طرح کی ذہنی پسماندگی اور دھمکیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اس بوکھلاہٹ کا نتیجے میں بھارتی وزراء کی جانب سے غیر پارلیمانی زبان کے استعمال اور سوشل میڈیا پر خواتین صحافیوں کو منظم طریقے سے ہراساں کرنے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ رویہ دراصل اس ذہنی پسماندگی کی علامت ہے جو شکست خوردہ ذہنیت سے جنم لیتی ہے۔ جب سفارتی راستے بند ہو جاتے ہیں، تو ریاستیں اسی طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتی ہیں تاکہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال سکیں۔

دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں کمی: صدر ٹرمپ کا ایران پر ممکنہ حملے 10 روز کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان

متعلقہ مضامین

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *