افغانستان کے صوبے قندوز میں طالبان کی ایک سکیورٹی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں دو طالبان ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان مخالف مسلح گروہ افغانستان آزادی محاذ(جبھہ آزادی افغانستان) نے قبول کر لی ہے، جو ملل کے مختلف حصوں میں طالبان اہلکاروں کے خلاف کاروائیاں تیز کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کاروائی جمعرات کی شام تقریباً 7 بجے کندز-خان آباد شاہراہ پر عمل میں لائی گئی۔ حملہ آوروں نے شہر کندز کے پانچویں سکیورٹی زون میں طالبان جنگجوؤں کو لے جانے والی ایک ‘رینجر’ گاڑی کو نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ یا فائرنگ اتنی شدید تھی کہ گاڑی میں سوار دو طالبان اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک ملیشیا اہلکار شدید زخمی ہوا جسے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
‘آزادی محاذ’ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں
‘افغانستان آزادی محاذ’ نے اس حملے کے فوراً بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے منصوبہ بندی کے تحت طالبان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حالیہ چند ماہ کے دوران شمالی افغانستان، بالخصوص قندوز اور تخار کے علاقوں میں اس گروہ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے لیے اندرونی مزاحمت اور گوریلا طرز کے حملے سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
طالبان کا ردِعمل اور علاقائی صورتحال
طالبان حکام کی جانب سے تاحال مذکورہ واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایسے واقعات کے بعد طالبان فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ شاہراہوں پر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے ان واقعات نے دور دراز سفر کرنے والے مسافروں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
دیکھیے: بھارت کی جارحانہ پالیسی بے نقاب، لندن میں صحافی صفینہ خان کو قتل کی سنگین دھمکیاں