"> قندوز میں طالبان کی گاڑی پر حملہ: دو طالبان ہلاک اور ایک زخمی، افغانستان آزادی محاذ نے ذمہ داری قبول کر لی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

قندوز میں طالبان کی گاڑی پر حملہ: دو طالبان ہلاک اور ایک زخمی، افغانستان آزادی محاذ نے ذمہ داری قبول کر لی

قندوز میں ‘افغانستان آزادی محاذ’ کے جنگجوؤں نے طالبان کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ حملہ قندوز۔ خان آباد شاہراہ پر پانچویں سکیورٹی زون میں کیا گیا
قندوز میں 'افغانستان آزادی محاذ' کے جنگجوؤں نے طالبان کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ حملہ قندوز۔ خان آباد شاہراہ پر پانچویں سکیورٹی زون میں کیا گیا

افغانستان کے صوبہ قندوز میں طالبان اہلکاروں پر خطرناک حملہ۔ طالبان مخلاف مسلح گروہ 'افغانستان آزادی محاذ' نے حملے کی ذمہ قبول کرلی

March 27, 2026

افغانستان کے صوبے قندوز میں طالبان کی ایک سکیورٹی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں دو طالبان ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان مخالف مسلح گروہ افغانستان آزادی محاذ(جبھہ آزادی افغانستان) نے قبول کر لی ہے، جو ملل کے مختلف حصوں میں طالبان اہلکاروں کے خلاف کاروائیاں تیز کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کاروائی جمعرات کی شام تقریباً 7 بجے کندز-خان آباد شاہراہ پر عمل میں لائی گئی۔ حملہ آوروں نے شہر کندز کے پانچویں سکیورٹی زون میں طالبان جنگجوؤں کو لے جانے والی ایک ‘رینجر’ گاڑی کو نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ یا فائرنگ اتنی شدید تھی کہ گاڑی میں سوار دو طالبان اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک ملیشیا اہلکار شدید زخمی ہوا جسے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

‘آزادی محاذ’ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں

‘افغانستان آزادی محاذ’ نے اس حملے کے فوراً بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے منصوبہ بندی کے تحت طالبان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حالیہ چند ماہ کے دوران شمالی افغانستان، بالخصوص قندوز اور تخار کے علاقوں میں اس گروہ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے لیے اندرونی مزاحمت اور گوریلا طرز کے حملے سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔

طالبان کا ردِعمل اور علاقائی صورتحال

طالبان حکام کی جانب سے تاحال مذکورہ واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایسے واقعات کے بعد طالبان فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ شاہراہوں پر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے ان واقعات نے دور دراز سفر کرنے والے مسافروں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

دیکھیے: بھارت کی جارحانہ پالیسی بے نقاب، لندن میں صحافی صفینہ خان کو قتل کی سنگین دھمکیاں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *