اسلام آباد/کابل: کابل میں حالیہ فضائی کارروائی کے بعد متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، جہاں ایک جانب شہری ہلاکتوں کا مؤقف پیش کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ حملے کا اصل ہدف ایک ڈرون بنانے کی تنصیب تھی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں ایک افغان خاتون کے حوالے سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا، تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی تاحال کوئی حتمی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔
دستیاب معلومات کے مطابق جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ ماضی میں نیٹو کا “کیمپ فینکس” تھا، جسے بعد میں منشیات بحالی مرکز میں تبدیل کیا گیا، تاہم تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اسی مقام کو طالبان کی جانب سے گزشتہ چند برسوں سے خودکش ڈرونز بنانے کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس کمپاؤنڈ میں طالبان کے دفاعی ڈھانچے سے منسلک تنصیبات بھی موجود تھیں، جبکہ بعض رپورٹس میں اسے عسکری سرگرمیوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ ایک ہدفی کارروائی تھی جس کا مقصد سرحد پار دہشتگردی میں ملوث انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا تھا، خصوصاً ایسے عناصر جو پاکستان کے خلاف حملوں میں سرگرم رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو یک طرفہ انداز میں پیش کرنا مکمل تصویر کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ ایک طرف انسانی المیہ ہے تو دوسری طرف دہشتگردی کا وہ پس منظر بھی ہے جس نے اس کارروائی کو جنم دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان گزشتہ برسوں میں دہشتگردی سے شدید متاثر رہا ہے، جہاں سینکڑوں حملوں میں ہزاروں شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ماہرین کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی ریاست کو اپنی سرزمین کے دفاع کا حق حاصل ہے، خاص طور پر جب سرحد پار سے حملوں کی منصوبہ بندی ہو رہی ہو۔
انہوں نے اس پہلو پر بھی زور دیا کہ اگر عسکری تنصیبات شہری مراکز میں قائم کی جائیں تو اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی متعلقہ فریق پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ شہریوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان نے یہ کارروائی مجبوری کے تحت کی، جس کا مقصد اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانا تھا، نہ کہ کسی قسم کا غیر ضروری تصادم۔
ماہرین کے مطابق اس معاملے کو سمجھنے کیلئے جذباتی بیانیے کے بجائے مکمل حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
دیکھئیے:راولپنڈی میں غیرقانونی افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن، جعلی دستاویزات پر 23 افراد گرفتار