اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان کے مصالحتی کردار پر تنقید کے جواب میں ایک نیا مؤقف سامنے آیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اصل سوال جنگ لڑنے کا نہیں بلکہ اس کے انجام کو سنبھالنے کا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بعض عرب حلقے پاکستان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ثالثی کے بجائے جنگی صف بندی کا حصہ بنے، تاہم پاکستانی مؤقف کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سوچ خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
ماہرین نے نشاندہی کی کہ امریکہ پہلے ہی ایران کے ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور اس کے فوجی و ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ مزید عسکری کارروائی سے کیا حاصل ہوگا اور کون سا ہدف باقی رہ گیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ 9 کروڑ آبادی والے ملک میں زمینی مداخلت نہ صرف پیچیدہ بلکہ طویل اور غیر یقینی نتائج کی حامل ہوگی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق سب سے اہم پہلو “جنگ کا خاتمہ” ہے۔ اگر جنگ ختم کرنے کی حکمت عملی واضح نہ ہو تو کوئی بھی عسکری کامیابی دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اسی تناظر میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ ایک ایسا سیاسی حل نکالا جا سکے جو تمام فریقین کیلئے قابلِ قبول ہو اور خطہ مزید عدم استحکام سے بچ سکے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرونی طاقتیں وقت کے ساتھ اپنے مفادات کے تحت خطہ چھوڑ سکتی ہیں، لیکن علاقائی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنا ہے، اس لیے مستقل دشمنی کے بجائے مستقبل کے استحکام پر توجہ ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی شکست خوردہ فریق کو مکمل طور پر دیوار سے لگانا تاریخ میں خطرناک نتائج کا سبب بنا ہے، اس لیے ایک باعزت اور متوازن حل ہی دیرپا امن کی ضمانت ہو سکتا ہے۔
پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا مؤقف جذباتی نہیں بلکہ تجربے پر مبنی ہے، جہاں جنگ کے بجائے اس کے انجام کو سنبھالنے کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
دیکھئیے:پاکستان اور ناروے کے درمیان تاریخی موسمیاتی معاہدہ: گرین سرمایہ کاری اور کاربن کریڈٹس کا نیا دور