"> جنگ نہیں، انجام اہم ہے: پاکستان کا عرب دنیا کو پیغام، فقط مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، اسلام آباد کا مؤقف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جنگ نہیں، انجام اہم ہے: پاکستان کا عرب دنیا کو پیغام، فقط مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، اسلام آباد کا مؤقف

امریکہ پہلے ہی ایران کے ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور اس کے فوجی و ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ مزید عسکری کارروائی سے کیا حاصل ہوگا اور کون سا ہدف باقی رہ گیا ہے۔
عرب ممالک میں پاکستان کے کردار پر تنقید پر پاکستان کا جواب

انہوں نے خبردار کیا کہ 9 کروڑ آبادی والے ملک میں زمینی مداخلت نہ صرف پیچیدہ بلکہ طویل اور غیر یقینی نتائج کی حامل ہوگی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

April 2, 2026

اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان کے مصالحتی کردار پر تنقید کے جواب میں ایک نیا مؤقف سامنے آیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اصل سوال جنگ لڑنے کا نہیں بلکہ اس کے انجام کو سنبھالنے کا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بعض عرب حلقے پاکستان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ثالثی کے بجائے جنگی صف بندی کا حصہ بنے، تاہم پاکستانی مؤقف کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سوچ خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

 پاکستان سے اختلافات ختم کیا جائے، ورنہ افغانستان تنہا رہ جائے گا: افغان وزیر

ماہرین نے نشاندہی کی کہ امریکہ پہلے ہی ایران کے ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور اس کے فوجی و ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ مزید عسکری کارروائی سے کیا حاصل ہوگا اور کون سا ہدف باقی رہ گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ 9 کروڑ آبادی والے ملک میں زمینی مداخلت نہ صرف پیچیدہ بلکہ طویل اور غیر یقینی نتائج کی حامل ہوگی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق سب سے اہم پہلو “جنگ کا خاتمہ” ہے۔ اگر جنگ ختم کرنے کی حکمت عملی واضح نہ ہو تو کوئی بھی عسکری کامیابی دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اسی تناظر میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ ایک ایسا سیاسی حل نکالا جا سکے جو تمام فریقین کیلئے قابلِ قبول ہو اور خطہ مزید عدم استحکام سے بچ سکے۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرونی طاقتیں وقت کے ساتھ اپنے مفادات کے تحت خطہ چھوڑ سکتی ہیں، لیکن علاقائی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنا ہے، اس لیے مستقل دشمنی کے بجائے مستقبل کے استحکام پر توجہ ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی شکست خوردہ فریق کو مکمل طور پر دیوار سے لگانا تاریخ میں خطرناک نتائج کا سبب بنا ہے، اس لیے ایک باعزت اور متوازن حل ہی دیرپا امن کی ضمانت ہو سکتا ہے۔

پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا مؤقف جذباتی نہیں بلکہ تجربے پر مبنی ہے، جہاں جنگ کے بجائے اس کے انجام کو سنبھالنے کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

دیکھئیے:پاکستان اور ناروے کے درمیان تاریخی موسمیاتی معاہدہ: گرین سرمایہ کاری اور کاربن کریڈٹس کا نیا دور

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *