ایک پناہ گزین جو پاکستانی پاسپورٹ پر برطانیہ پہنچا تھا، نے عدالتی جنگ جیت کر ملک میں رہنے کا حق حاصل کر لیا ہے۔ پناہ گزین کا دعویٰ تھا کہ وہ درحقیقت افغان شہری ہے اور اگر اسے واپس بھیجا گیا تو اس کی خاندانی زندگی متاثر ہوگی اور اسے طالبان کے خطرے کا سامنا ہوگا۔
یہ فرد یورپی انسانی حقوق کے معاہدے (ای سی ایچ آر) کے آرٹیکل 8 کے تحت اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کے حق کی بنیاد پر اپیل کر رہا تھا۔ ابتدائی طور پر امیگریشن ٹریبونل نے اس کا کیس مسترد کر دیا تھا لیکن اعلیٰ عدالت نے پہلے درجے کے فیصلے میں قانونی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔
ججوں نے ریمارکس دیے کہ افغان قانون کے تحت دوہری شہریت کی اجازت نہیں ہے اور طالبان ان لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو پاکستان فرار ہوئے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ بات غیرمعقول ہے کہ بچوں کی بہترین فلاح و بہبود کسی بھی ملک (برطانیہ، پاکستان، کویت یا افغانستان) میں پوری ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے غیر ملکی مجرموں اور ناکام پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے میں آسانی کے لیے آرٹیکل 8 کے اطلاق میں اصلاحات کی تجویز دی ہے۔
دیکھیں: برطانیہ میں غیر قانونی مقیم افغان شہری کی 2 خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، گرفتار کر لیا گیا