ٹی ٹی پی نے 2025 میں 595 حملے کیے، جن میں 637 افراد مارے گئے، اور یہ پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کے 56 فیصد کی ذمہ دار تھی

March 24, 2026

افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد کی میڈیا پالیسی کی تحقیق؛ انسانی جان کی حرمت سے لے کر اقلیتوں کے حقوق تک طالبان کے قول و فعل میں موجود واضح تضادات

March 24, 2026

نادرا کے کرپٹ عناصر کی وجہ سے کئی پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے اور انہیں جیل میں رکھا گیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے افراد پاکستان کے حقیقی شہری ہیں۔ بلاک کارڈز کی تصدیق اور مناسب قانونی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے شہری ذہنی اذیت اور معاشرتی مشکلات کا شکار ہیں

March 24, 2026

ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک نے پاکستان کی پیشکش قبول کر لی ہے، وفود رواں ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے

March 24, 2026

ضلع اورکزئی میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ داعش خراسان کے دو آذری کارندے کاظم غور اور محمد یونس گرفتار کر لیے گئے

March 24, 2026

معروف تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کا دعویٰ؛ پاکستان رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ترین مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے

March 24, 2026

دہشت گردی کی آگ اور پاکستان ، زخم بھی ہمارا، محاذ بھی ہمارا

ٹی ٹی پی نے 2025 میں 595 حملے کیے، جن میں 637 افراد مارے گئے، اور یہ پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کے 56 فیصد کی ذمہ دار تھی
پاکستان دہشتگردی کا شکار

یہ وہی پاکستان ہے جس نے 2014 سے 2021 کے درمیان دہشت گردی کو فیصلہ کن حد تک کم کر کے ایک مثال قائم کی، مگر 2021 کے بعد بدلتے علاقائی حالات نے ان کامیابیوں کو الٹ دیا۔

March 24, 2026

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کی رپورٹ ایک تلخ مگر ناگزیر حقیقت کو ایک بار پھر عالمی ضمیر کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پاکستان دہشت گردی کا منبع نہیں، بلکہ اس کا سب سے بڑا شکار ہے۔  رپورٹ نے ایک بار پھر اس حقیقت پر مہر ثبت کر دی ہے ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جس قوم نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، اسی کو اکثر کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
یہ امر محض بیانیہ نہیں بلکہ اعداد و شمار کی زبان میں ثبت شدہ حقیقت ہے کہ 2025 میں پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا۔ یہ وہی پاکستان ہے جس نے 2014 سے 2021 کے درمیان دہشت گردی کو فیصلہ کن حد تک کم کر کے ایک مثال قائم کی، مگر 2021 کے بعد بدلتے علاقائی حالات نے ان کامیابیوں کو الٹ دیا۔

یہ صرف ایک رپورٹ نہیں، یہ ان ماؤں کے آنسوؤں کا حساب ہے جن کے بیٹے شہید ہوئے، یہ ان بچوں کی چیخوں کی بازگشت ہے جو اسکولوں، مساجد اور بازاروں میں نشانہ بنے۔ 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے ہزار سے زائد حملے اور ہزار سے زیادہ قیمتی جانوں کا ضیاع اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جنگ ختم نہیں ہوئی، بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ آگ کہاں سے بھڑکتی ہے اور کیوں ہر بار پاکستان ہی اس کی لپیٹ میں آتا ہے؟

یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2021 کے بعد خطے کا جغرافیہ بدل گیا۔ افغانستان میں طاقت کی تبدیلی کے ساتھ ہی دہشت گردی کا رخ بھی بدل گیا۔ جہاں ایک طرف وہاں حملوں میں کمی آئی، وہیں پاکستان میں شدت بڑھ گئی۔جو محض اتفاق نہیں بلکہ ایک کلاسیکی تھریٹ ڈسپلیسمنٹ ہے، جہاں   خطرہ ختم نہیں ہوتا بلکہ سرحد پار منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ وہی حقیقت ہے جسے رپورٹ بھی اشاروں میں بیان کرتی ہے کہ سرحدی علاقوں میں موجود خلا دہشت گرد عناصر کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر مختلف دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور لانچنگ پیڈ بن گئی ہے، جہاں سے تحریکِ طالبان پاکستان (فتنۃ الخوارج) جیسے گروہ نہ صرف منظم ہوتے ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف حملے بھی کرتے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کون کر رہا ہے؟

تحریکِ طالبان پاکستان، جسے ریاست بجا طور پر فتنہ الخوارج قرار دیتی ہے، اس نئی لہر کا سب سے بڑا چہرہ بن کر سامنے آئی ہے۔

جی ٹی آئی کے مطابق ٹی ٹی پی نے 2025 میں 595 حملے کیے، جن میں 637 افراد مارے گئے، اور یہ پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کے 56 فیصد کی ذمہ دار تھی۔ مزید یہ کہ 2007 سے پاکستان میں ہونے والے کل حملوں میں 67 فیصد سے زیادہ ٹی ٹی پی کے کھاتے میں جاتے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے: پاکستان کے خلاف سب سے بڑی منظم خونریز قوت وہی فتنہ ہے جس نے ریاست، فوج، پولیس اور عوام سب کو نشانہ بنایا۔

جعفر ایکسپریس پر حملہ، تیراہ ویلی میں فوجی کیمپ کو نشانہ بنانا، بنوں اور باجوڑ میں سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت، یہ محض واقعات نہیں بلکہ اس حقیقت کے آئینہ دار ہیں کہ دشمن اب بھی منظم ہے، مربوط ہے اور کہیں نہ کہیں اسے سہارا میسر ہے۔

یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ حملہ کون کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے سہولت کون فراہم کر رہا ہے؟

تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے خلاف ہمیشہ براہِ راست جنگ کے بجائے بالواسطہ راستے اختیار کیے گئے۔ کبھی نظریاتی یلغار، کبھی پراکسی جنگ اور کبھی دہشت گردی کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ آج بھی یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کچھ قوتیں خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔ ایسے میں یہ مان لینا کہ دہشت گرد گروہ خودبخود اتنے منظم ہو گئے ہیں، حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔

بلوچستان میں ریاستی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنایا جانا، یا خیبر پختونخوا میں مسلسل سکیورٹی تنصیبات پر حملے—یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ محض داخلی شورش نہیں بلکہ ایک بڑی بساط کا حصہ ہے۔ ایک ایسی بساط جہاں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنا کر خطے کے توازن کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان تنہا نہیں لڑ رہا، پورے خطے کے لیے لڑ رہا ہے

جب دنیا کے مجموعی دہشت گردی کے اموات میں کمی آرہی تھی، پاکستان کا حال ساری دنیا سے متضاد تھا ۔

 رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں دہشتگردی سے پانچ ہزار پانچ سو بیاسی اموات ہوئیں جن میں سے ۲۰ فیصد محض پاکستان میں تھیں ۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ پاکستان اپنی بقا ہی نہیں، خطے کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔ اگر سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں ختم نہ ہوں تو آگ پاکستان تک محدود نہیں رہے گی؛ وہ وسطی و جنوبی ایشیا کے امن کو بھی بھسم کرے گی۔

پاکستان کٹہرے میں نہیں، گواہوں کے ساتھ کھڑا ہے

لہٰذا سچ یہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے کٹہرے میں کھڑا کرنا تاریخ، جغرافیہ اور اعداد—تینوں سے انکار کے مترادف ہے۔
پاکستان دہشت گردی کا شکاربھی ہے، دہشت گردی کے خلاف سپر فرنٹ لائن ریاستبھی، اور علاقائی استحکام کی آخری دیوار بھی۔
جو ملک اپنے قبرستانوں، چوکیوں، اسکولوں، ریل گاڑیوں اور بازاروں میں لہو بہا کر بھی کھڑا ہے، اسے مشکوک نہیں، مظلوم اور مزاحم سمجھا جانا چاہیے۔

پاکستان پر دہشت گردی مسلط کی گئی ہے؛ اور پاکستان آج بھی اپنے خون سے صرف اپنی نہیں، پورے خطے کی سرحدیں بچا رہا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اس کے زخموں کو سمجھا جائے۔ کیونکہ یہ ملک صرف اپنی جنگ نہیں لڑ رہا، بلکہ اس خطے کے امن کی آخری امید بھی ہے۔پاکستان زخمی تو ہے مگر مضبوط بھی ہے، تنہا تو ہے مگر دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈٓالے ڈٹ کر کھڑا ہے، پاکستان نے دہشتگردی اور دنیا کے درمیان آخری اور مضبوط دیوار ہے، اس کے بعد یہ آگ یقینا ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس حقیقت کا عالمی سطح پر اعتراف ہونا چاہئیے کہ پاکستان دہشتگردی کے اندھیروں کے سامنے ایک روشن مزاحمت ہے

دیکھئیے:بھارتی سازشوں کا تسلسل: پاکستان کا میزائل پروگرام اور مخالف گروہوں کا نیا وار

متعلقہ مضامین

افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد کی میڈیا پالیسی کی تحقیق؛ انسانی جان کی حرمت سے لے کر اقلیتوں کے حقوق تک طالبان کے قول و فعل میں موجود واضح تضادات

March 24, 2026

نادرا کے کرپٹ عناصر کی وجہ سے کئی پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے اور انہیں جیل میں رکھا گیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے افراد پاکستان کے حقیقی شہری ہیں۔ بلاک کارڈز کی تصدیق اور مناسب قانونی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے شہری ذہنی اذیت اور معاشرتی مشکلات کا شکار ہیں

March 24, 2026

ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک نے پاکستان کی پیشکش قبول کر لی ہے، وفود رواں ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے

March 24, 2026

ضلع اورکزئی میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ داعش خراسان کے دو آذری کارندے کاظم غور اور محمد یونس گرفتار کر لیے گئے

March 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *