وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے حالیہ بیان کے بعد صوبے میں ایک نئی پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ جو افراد پہاڑوں پر جا کر مسلح سرگرمیوں میں شامل ہیں، اگر ان کے اہلِ خانہ متعلقہ اداروں کو آگاہ نہیں کریں گے تو مستقبل میں دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث پائے جانے کی صورت میں قانونی کارروائی گھر والوں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
اس بیان کے بعد مختلف علاقوں میں بعض خاندانوں کی جانب سے عوامی سطح پر اپنے ان افراد سے لاتعلقی کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں جو کالعدم تنظیم بی ایل اے میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ بعض خاندانوں نے واضح کیا ہے کہ ان کے مذکورہ رشتہ داروں کا ان سے اب کوئی تعلق نہیں اور وہ ریاست مخالف سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق ماضی میں ایسے کئی افراد کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا رہا کہ وہ لاپتہ ہیں اور انہیں ریاستی اداروں نے تحویل میں لے رکھا ہے۔ اس تناظر میں بعض تنظیمیں، جن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی بھی شامل ہے، ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ بیانات کے بعد بعض کیسز میں یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ متعلقہ افراد پہاڑوں میں مسلح گروہوں کے ساتھ موجود ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے ان مقدمات کی چھان بین میں مدد ملے گی جن میں لاپتہ افراد کے حوالے سے ابہام پایا جاتا تھا۔ ان کے مطابق جو افراد واقعی لاپتہ ہیں اور کسی مسلح تنظیم سے وابستہ نہیں، ان کے معاملات کو الگ اور شفاف انداز میں دیکھا جائے گا، جبکہ مسلح سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی نشاندہی بھی واضح ہوتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب بعض انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں احتیاط اور شفافیت ضروری ہے تاکہ کسی بے گناہ خاندان کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ اعلانات سے صوبے میں جاری بیانیے میں تبدیلی آ سکتی ہے اور یہ واضح ہو سکتا ہے کہ کون سے افراد مسلح تنظیموں کے ساتھ وابستہ ہیں اور کون واقعی لاپتہ ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔