پشاور میں پولیس مقابلے کے دوران انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلرز گینگ کے سرغنہ سمیت پانچ ملزمان ہلاک ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق سی سی پی او پشاور میاں سعید کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے گینگ نے دو پولیس اہلکاروں کو شہید کیا تھا اور وہ ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ گینگ کا سرغنہ نجمل الحسن نے ایک ویڈیو بیان میں پولیس کانسٹیبل کے قتل کا اعتراف بھی کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ہلاک ہونے والا گینگ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور درہ آدم خیل کے علاقوں میں کم از کم 30 وارداتوں میں ملوث رہا۔ سی سی پی او کے مطابق پشاور میں 12 اور نوشہرہ میں 17 افراد کے قتل میں اس گینگ کا کردار رہا، جبکہ چارسدہ اور درہ آدم خیل میں قتل کے واقعات میں یہ گروہ شامل رہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان نے اے این پی رہنما مومن خان اور ان کے بھائی کو بھی نشانہ بنایا تھا، نیز ایک خواجہ سرا کو فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک موثر پیغام گیا ہے اور امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کی توقع ہے۔
دیکھیں: پاکستان اور متحدہ عرب امارات: برادرانہ تعلقات کا نیا عہد