افغان طالبان کے اہم رُکن عبدالحمید خراسانی نے ‘طلوع نیوز’ کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان سمیت عالمی دنیا کے خلاف خودکش حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی حمایت کا اعتراف کر لیا ہے

February 24, 2026

سعودی عرب، فرانس، برازیل اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک اور عالمی تنظیموں نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی توسیع اور غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے حالیہ اقدامات کو شدید ترین الفاظ میں مسترد کر دیا ہے

February 24, 2026

افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان کے اندرونی حلقوں میں شدید سیاسی خلفشار کی اطلاعات ہیں، جہاں افغان مجلسِ شوریٰ موجودہ امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جگہ نئی قیادت لانے پر غور کر رہی ہے

February 24, 2026

روسی وزارتِ خارجہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 23 ہزار کے قریب عالمی دہشت گرد جنگجو موجود ہیں، جبکہ داعش اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں علاقائی استحکام کے لیے بدستور سنگین خطرہ قرار دی گئی ہیں

February 24, 2026

ویڈیو پیغام میں گروپ کی قیادت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ ترجمان کے چہرے کو بھی واضح نہیں دکھایا گیا۔ مبصرین کے مطابق مقرر کے لہجے اور اندازِ گفتگو کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان کے شمالی علاقوں سے ہو سکتا ہے۔

February 23, 2026

ذرائع کے مطابق کم از کم 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ افغانستان کے جنوبی زون کے لیے صوبہ پکتیا کے گورنر مہر اللہ حمد سے ملا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مبینہ حملوں میں مارے گئے افراد کی لاشیں نکالی جا رہی تھیں اور طالبان نے واقعے کے مقام تک عام شہریوں کی رسائی محدود کر رکھی تھی۔

February 23, 2026

پی آئی اے کی نجکاری: نجات یا نیا تجربہ؟

پی آئی اے گزشتہ کئی دہائیوں سے خسارے، ناقص انتظامی ڈھانچے، سیاسی مداخلت اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی علامت بنی رہی۔ اربوں روپے کے سالانہ نقصانات نے قومی خزانے پر بھاری بوجھ ڈالا، جبکہ مسافروں کو ناقص سروس، فرسودہ فضائی بیڑے اور عالمی معیار سے کم سہولیات کا سامنا کرنا پڑا۔
پی آئی اے کی نجکاری: نجات یا نیا تجربہ؟

پی آئی اے کی نجکاری اگر درست سمت میں آگے بڑھی تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتی ہے، بصورتِ دیگر یہ ایک اور متنازع باب کے طور پر تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔ قوم کی نظریں اب وعدوں پر نہیں بلکہ عملی نتائج پر ہیں۔

December 24, 2025

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری بالآخر عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کی جانب سے 135 ارب روپے کے عوض قومی ایئرلائن کے 75 فیصد حصص کی خریداری بظاہر ایک بڑی معاشی پیش رفت دکھائی دیتی ہے، تاہم اس فیصلے کے اثرات، مضمرات اور خدشات پر سنجیدہ اور غیر جذباتی غور و فکر ناگزیر ہے۔

پی آئی اے گزشتہ کئی دہائیوں سے خسارے، ناقص انتظامی ڈھانچے، سیاسی مداخلت اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی علامت بنی رہی۔ اربوں روپے کے سالانہ نقصانات نے قومی خزانے پر بھاری بوجھ ڈالا، جبکہ مسافروں کو ناقص سروس، فرسودہ فضائی بیڑے اور عالمی معیار سے کم سہولیات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے نجکاری کو ایک ’’ناگزیر فیصلہ‘‘ قرار دینا کسی حد تک قابلِ فہم ہے۔

حکومتی مؤقف یہ ہے کہ نجکاری کے نتیجے میں نہ صرف قومی خزانے پر دباؤ کم ہوگا بلکہ نجی شعبے کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید مینجمنٹ اور سرمایہ کاری کے ذریعے پی آئی اے کو دوبارہ منافع بخش ادارہ بنایا جا سکے گا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں قومی ایئرلائنز کی نجکاری کے بعد بہتر کارکردگی کی مثالیں اس دلیل کو تقویت ضرور دیتی ہیں۔

تاہم، اس پورے عمل پر اہم سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ سب سے بنیادی سوال شفافیت کا ہے۔ کیا نجکاری کا عمل واقعی آزاد، مسابقتی اور شفاف تھا؟ کیا قومی اثاثے کی اصل قدر کا درست تعین کیا گیا؟ 135 ارب روپے کی رقم ایک ایسے ادارے کے لیے کافی ہے یا نہیں جس کے پاس قیمتی بین الاقوامی روٹس، لینڈنگ رائٹس اور دیگر اسٹریٹجک اثاثے موجود ہیں؟ ان سوالات کے واضح اور مستند جوابات دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ایک اور نہایت حساس پہلو پی آئی اے کے ملازمین کا مستقبل ہے۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار اس ادارے سے وابستہ ہے۔ اگرچہ حکومت اور خریدار کنسورشیم کی جانب سے ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، مگر ماضی کے تجربات اس حوالے سے زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔ نجکاری کے بعد ڈاؤن سائزنگ، کنٹریکٹ سسٹم اور مراعات میں کمی جیسے خدشات کو محض بیانات سے نہیں بلکہ ٹھوس ضمانتوں سے دور کرنا ہوگا۔

قومی وقار اور شناخت کا سوال بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پی آئی اے محض ایک تجارتی ادارہ نہیں بلکہ دہائیوں تک پاکستان کی سفارتی موجودگی اور قومی تشخص کی علامت رہی ہے۔ اسے صرف منافع کے ترازو میں تولنا ایک محدود نقطۂ نظر ہوگا۔ نجی ملکیت میں جانے کے بعد بھی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے واضح ضابطہ کار اور مؤثر حکومتی نگرانی ناگزیر ہوگی۔

اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ پی آئی اے کو سرکاری تحویل میں رکھ کر مسلسل نقصانات برداشت کرنا ملک کے مفاد میں نہیں تھا۔ اگر نجکاری کے نتیجے میں ادارہ جدید خطوط پر استوار ہوتا ہے، سروس کے معیار میں بہتری آتی ہے اور پاکستان کی ہوا بازی صنعت عالمی معیار کے قریب پہنچتی ہے تو یہ فیصلہ درست ثابت ہو سکتا ہے۔

اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ نجکاری محض ایک معاہدے پر دستخط کا نام نہیں بلکہ اصلاحات، شفاف نگرانی اور طویل المدتی وژن کا تقاضا کرتی ہے۔ حکومت کو اپنا ریگولیٹری کردار مضبوط بنانا ہوگا، جبکہ نئے مالکان پر لازم ہے کہ وہ منافع کے ساتھ ساتھ قومی ذمہ داری کا بھی شعور رکھیں۔

پی آئی اے کی نجکاری اگر درست سمت میں آگے بڑھی تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتی ہے، بصورتِ دیگر یہ ایک اور متنازع باب کے طور پر تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔ قوم کی نظریں اب وعدوں پر نہیں بلکہ عملی نتائج پر ہیں۔

دیکھیں: لیبیا پاکستان سے سولہ جے ایف 17 طیارے خریدے گا

متعلقہ مضامین

افغان طالبان کے اہم رُکن عبدالحمید خراسانی نے ‘طلوع نیوز’ کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان سمیت عالمی دنیا کے خلاف خودکش حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی حمایت کا اعتراف کر لیا ہے

February 24, 2026

سعودی عرب، فرانس، برازیل اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک اور عالمی تنظیموں نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی توسیع اور غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے حالیہ اقدامات کو شدید ترین الفاظ میں مسترد کر دیا ہے

February 24, 2026

افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان کے اندرونی حلقوں میں شدید سیاسی خلفشار کی اطلاعات ہیں، جہاں افغان مجلسِ شوریٰ موجودہ امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جگہ نئی قیادت لانے پر غور کر رہی ہے

February 24, 2026

روسی وزارتِ خارجہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 23 ہزار کے قریب عالمی دہشت گرد جنگجو موجود ہیں، جبکہ داعش اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں علاقائی استحکام کے لیے بدستور سنگین خطرہ قرار دی گئی ہیں

February 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *