"> سانحہ پمز پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی منظوری
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سانحہ پمز پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور

سانحہ پمز پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی منظوری، ذمہ داروں کے تعین اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ۔
سانحہ پمز پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی منظوری

سانحہ پمز میں بچوں کی ہلاکت پر قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے دی، ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ۔

August 28, 2026

قومی اسمبلی نے سانحہ پمز پر خصوصی کمیٹی بنانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے، جبکہ سینیٹ میں بھی اس حوالے سے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے تحریک منظور کر لی گئی۔

سینیٹر شیری رحمان نے سانحہ پمز پر سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے لیے تحریک پیش کی، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ اراکین سینیٹ عوام کے نوکر ہیں اور عوام کے مسائل پر بات کرنا ہی ان کا کام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کے جاں بحق ہونے کا معاملہ دبنا نہیں چاہیے اور اصل مسئلہ پیسوں کا نہیں بلکہ گورننس کا ہے۔

سینیٹر پرویز رشید نے تجویز دی کہ ایک قانون بنایا جائے جس کے تحت ہر شخص کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو، چاہے وہ سینیٹر ہو، جج ہو یا بیوروکریٹ۔ ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی عائد کی جائے، جس کے بعد چند مہینوں میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہتر ہو جائے گی۔

قومی اسمبلی میں قرارداد

قومی اسمبلی میں یہ قرارداد چیئرمین پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال بیرسٹر دانیال نے پیش کی۔ قرارداد میں پمز میں آتشزدگی کے واقعے میں معصوم بچوں کی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ایوان نے اس سانحے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس کا باعث بننے والی لاپرواہی پر شدید تشویش ظاہر کی۔

قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ لاپرواہی کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سنگین کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ہسپتالوں، خصوصاً نرسری اور بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی کے سخت انتظامات اور ایمرجنسی سے نمٹنے کے بہتر انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔

ایوان نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے سانحہ پمز بنانے کی تحریک بھی منظور کر لی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو بھی اس کمیٹی میں شمولیت کی تجویز دی۔

وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ

اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مابین سانحہ پمز پر شدید بحث ہوئی۔ اراکین نے آزادانہ تحقیقات، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور مستقبل میں ایسے سانحات کے تدارک کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ اراکین اسمبلی نے ہسپتال میں حفاظتی انتظامات اور سانحے سے نمٹنے کے لیے حکومتی ردعمل پر بھی سوالات اٹھائے۔

پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر صحت کے پاس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ انہوں نے اسلام آباد میں حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور وزیراعظم شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

بیرسٹر گوہر نے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کی جانی چاہیے کہ آئندہ ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آگ لگنے کے وقت ہسپتال میں ڈاکٹرز اور نرسیں موجود نہیں تھیں اور نومولود بچوں کو وارڈ کے اندر بند چھوڑ دیا گیا تھا۔ انہوں نے سانحے میں بچوں سے محروم ہونے والے خاندانوں کے لیے خاطر خواہ مالی امداد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

حکومت کا ردعمل

بیرسٹر گوہر کے معاوضے سے متعلق مطالبے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے فی خاندان 50 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے سے متعلق قائمہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب کیا گیا ہے، جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ رپورٹ پیش کریں گے۔ خواجہ آصف نے اراکین اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اس اجلاس میں شرکت کریں اور اپنی سفارشات پیش کریں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوابدہی یقینی بنائے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں غفلت کا عنصر موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیش آنے والے کئی سانحات کی تحقیقات برسوں سے زیر التوا ہیں، جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ عوام کی توجہ واقعے سے ہٹ جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کی مدت جان بوجھ کر بڑھائی جاتی ہے تاکہ معاملہ لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو جائے، اس لیے پمز سانحے کو محض افسوس کے اظہار تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے بعد جوابدہی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کمیٹی کی کارروائی کھلے عام کی جائے تاکہ عوام دیکھ سکیں کہ پارلیمان ذمہ داروں کا احتساب کر رہی ہے۔

دیکھیے: پمز سانحہ: تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ آج وزیراعظم کو پیش کی جائے گی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *