وزیرِ اعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیرِ مملکت برائے خارجہ تجارت اور پاک قطر مشترکہ بزنس ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ اقتصادی و تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دورانِ ملاقات تجارت اور معاشی تعاون میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا اور پاک قطر تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اظہارِ اطمینان کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے باہمی تجارت کے حجم میں اضافے اور پاکستانی برآمدات میں تنوع لانے کی ضرورت پر خصوصی توجہ دی۔
دونوں رہنماؤں نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے چھٹے اجلاس کی پیش رفت پر بھی گفتگو کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ رمضان المبارک کے دوران مشترکہ بزنس ٹاسک فورس کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ قطری سرمایہ کاری کی ٹھوس تجاویز کو حتمی شکل دی جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے قطری وفد کو پاکستان میں سرمایہ کار دوست ماحول اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے ذریعے فراہم کی جانے والی ادارہ جاتی سہولت کاری سے آگاہ کیا۔ ان اقدامات کا مقصد خلیجی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا اور انہیں ون ونڈو آپریشن کے ذریعے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔ قطر کی جانب سے تعاون کے دائرہ کار میں وسعت کی دلچسپی پاکستان کے معاشی اصلاحاتی سفر پر عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ ملاقات پاکستان اور قطر کے مابین بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اقتصادی اعتماد کا مظہر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک سیاسی ہم آہنگی کو عملی معاشی نتائج میں بدلنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ توقع ہے کہ نجی شعبے کے روابط اور آئندہ ٹاسک فورس اجلاسوں کے نتیجے میں زراعت، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو خطے میں پاکستان کی بطور متحرک معاشی شراکت دار شناخت کو مزید مضبوط کریں گے۔
دیکھیے: غزہ استحکام فورس: پاکستان فوجی دستے بھیجنے والے ممالک میں شامل نہیں