جنیوا میں جاری سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے جو بتدریج مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

February 21, 2026

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں علیمہ خان کے سیاسی عزائم زیرِ بحث؛ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وہ عمران خان کی صورتحال کو پارٹی قیادت تک رسائی کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہی ہیں

February 21, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار نے کہا ہے کہ ادارے کے پاس پیسوں کی کمی عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے، جس سے جنگ زدہ علاقوں میں جاری مشنز رک سکتے ہیں

February 21, 2026

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا بھی لحاظ نہیں رکھا جا رہا۔ ترجمان کے مطابق یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ ان عناصر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

February 21, 2026

پاکستان بورڈ آف پیس کے ان پانچ ممالک میں شامل نہیں ہے جنہوں نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے اپنی افواج بھیجنے کا اعلان کیا ہے

February 21, 2026

سوشل میڈیا پر شمالی وزیرستان میں تانبے کے ذخائر سے متعلق مضحکہ خیز دعویٰ بے نقاب؛ عالمی ادارے کے اعداد و شمار نے ریاست مخالف پراپیگنڈا بے نقاب کر دیا

February 21, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور

جنیوا میں جاری سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے جو بتدریج مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایک ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام کر رہا ہے جسے آئندہ دنوں میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کیا جائے گا۔

February 21, 2026

امریکہ نے ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئندہ دنوں میں ایران پر محدود نوعیت کی فوجی کارروائی کا امکان زیرِ غور ہے۔ دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ مکمل فوجی تیاری کی حالت میں ہے اور کسی بھی ممکنہ اقدام کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مختصر توقف کے بعد کہا کہ وہ اس امکان پر سوچ رہے ہیں۔

امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ تہران کو جوہری معاہدے سے متعلق امریکی شرائط قبول کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ کارروائی میں فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اخبار نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا اور مختلف عسکری آپشنز پر غور جاری ہے۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایک ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام کر رہا ہے جسے آئندہ دنوں میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران سفارتی راستہ اختیار کرنے کا خواہاں ہے، تاہم قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جنیوا میں جاری سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے جو بتدریج مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ ایک جانب سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فوجی تیاریوں میں اضافہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن اور تہران کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں کہ آیا معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوگا یا کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

متعلقہ مضامین

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں علیمہ خان کے سیاسی عزائم زیرِ بحث؛ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وہ عمران خان کی صورتحال کو پارٹی قیادت تک رسائی کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہی ہیں

February 21, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار نے کہا ہے کہ ادارے کے پاس پیسوں کی کمی عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے، جس سے جنگ زدہ علاقوں میں جاری مشنز رک سکتے ہیں

February 21, 2026

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا بھی لحاظ نہیں رکھا جا رہا۔ ترجمان کے مطابق یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ ان عناصر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

February 21, 2026

پاکستان بورڈ آف پیس کے ان پانچ ممالک میں شامل نہیں ہے جنہوں نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے اپنی افواج بھیجنے کا اعلان کیا ہے

February 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *