ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف ایک محدود کلین اپ ایکشن کرنے والا تھا، تاہم قطر کی درخواست پر یہ کارروائی مؤخر کی گئی۔

November 29, 2025

پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی جنگ صرف دہشتگردوں کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ رواں سال کے دوران ملک بھر میں 67 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے جن میں 1873 دہشتگرد مارے گئے، جن میں 136 افغان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی افغانستان پر حملہ نہیں کیا، اگر کارروائی ہوئی تو صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ہوگی۔

November 29, 2025

ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی اب سرحدوں سے آگے بڑھ چکی ہے، اور پاکستان امریکہ سمیت تمام عالمی شراکت داروں کے ساتھ مختلف فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کر رہا ہے۔

November 29, 2025

سری لنکا میں موسلا دھار بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتیں 123 تک پہنچ گئیں جبکہ 130 سے زائد افراد لاپتا اور اور 44 ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں

November 29, 2025

کوئٹہ کے قمبرانی روڈ پر جمعہ کی رات دو دھماکے ہوئے جن سے خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ پہلا دھماکا چیک پوسٹ کے قریب جبکہ دوسرا موٹر سائیکل میں نصب آئی ای ڈی بی ڈی ایس ٹیم کی گاڑی کے پاس پھٹ

November 29, 2025

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن کلین اپ قطر کی درخواست پر روکا گیا؛ اسحاق ڈار

ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف ایک محدود کلین اپ ایکشن کرنے والا تھا، تاہم قطر کی درخواست پر یہ کارروائی مؤخر کی گئی۔

وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ اقوام متحدہ نے پاکستان سے سرحدی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے تاکہ افغانستان کے عوام کے لیے لازمی غذائی سامان کی ترسیل کو ممکن بنایا جا سکے۔

November 29, 2025

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تقریباً 100 دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری خوش آئند ہے، مگر یہ اقدامات ہرگز کافی نہیں۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ افغانستان سے حقیقی اور فیصلہ کن کارروائی کے بغیر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ حالیہ دورۂ کابل میں افغان وزیر خارجہ امیرخان متقی نے انہیں بتایا کہ متعدد ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو جیل بھیجا گیا ہے۔ تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاک فوج اور عوام کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، اور ٹی ٹی پی کے مسئلے پر اب تک کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آئی۔

سرحدی بندش پر اقوام متحدہ کی نظرثانی کی درخواست

وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ اقوام متحدہ نے پاکستان سے سرحدی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے تاکہ افغانستان کے عوام کے لیے لازمی غذائی سامان کی ترسیل کو ممکن بنایا جا سکے۔


انہوں نے کہا کہ:
“اس معاملے پر عسکری قیادت سے بات کر چکا ہوں، وزیراعظم سے بھی جلد گفتگو ہوگی، اور امید ہے کہ افغان عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر کچھ سہولتیں دی جائیں گی۔”

قطر نے “آپریشن کلین اپ” رکوانے کی درخواست کی

ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف ایک محدود کلین اپ ایکشن کرنے والا تھا، تاہم قطر کی درخواست پر یہ کارروائی مؤخر کی گئی۔


انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک بشمول روس، ایران، قطر، ترکی نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کی ہے۔

افغان حکومت وعدے پورے نہیں کر رہی، پاکستان کے خدشات برقرار

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے کابل کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے پورے کیے، جن میں ریلوے کنیکٹیوٹی کا معاہدہ بھی شامل ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف افغان حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔

“ہم نے بارہا کابل کو کہا کہ ٹی ٹی پی کو سرحدی علاقوں سے دور لے جائیں، یا پاکستان کے حوالے کریں، مگر کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔”

افغانستان میں امن کے بغیر خطے میں استحکام ممکن نہیں

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی ترقی اور امن دیکھنا چاہتا ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ کابل حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی، مسلسل اور جامع کارروائی کرے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کابل کے تین دوروں کے باوجود تعاون میں وہ بہتری نظر نہیں آئی جو پاکستان چاہتا تھا۔
“ہم نے کبھی افغانستان کا استحصال نہیں کیا، مگر یہ رویہ درست نہیں کہ ایک طرف پاکستان تعاون بڑھائے اور دوسری طرف ہماری سرزمین کے خلاف حملے جاری رہیں۔”

بین الاقوامی دوروں پر بھی اہم بات چیت

اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ دورۂ ماسکو، بحرین اور برسلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات انتہائی مثبت رہی، جبکہ یورپی یونین حکام نے بھی افغانستان اور خطے کے سیکیورٹی چیلنجز پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی۔

انہوں نے کہا کہ:
“وہ وقت دور نہیں جب دنیا دہشت گردی کے خلاف متحد ہوگی۔ پاکستان ہمیشہ ایک قدم آگے بڑھ کر تعاون کرے گا۔”

متعلقہ مضامین

پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی جنگ صرف دہشتگردوں کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ رواں سال کے دوران ملک بھر میں 67 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے جن میں 1873 دہشتگرد مارے گئے، جن میں 136 افغان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی افغانستان پر حملہ نہیں کیا، اگر کارروائی ہوئی تو صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ہوگی۔

November 29, 2025

ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی اب سرحدوں سے آگے بڑھ چکی ہے، اور پاکستان امریکہ سمیت تمام عالمی شراکت داروں کے ساتھ مختلف فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کر رہا ہے۔

November 29, 2025

سری لنکا میں موسلا دھار بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتیں 123 تک پہنچ گئیں جبکہ 130 سے زائد افراد لاپتا اور اور 44 ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں

November 29, 2025

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *