دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے پاکستان سے متعلق حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیرِ خارجہ کے بے بنیاد اور اشتعال انگیز الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ بھارت ایک بار پھر اپنی ہمسایہ ریاستوں کے خلاف دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کے اپنے منفی کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں، بالخصوص پاکستان کے خلاف، دہشت گردی کے فروغ میں بھارت کا دستاویزی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کمانڈر کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، تخریب کاری کے لیے پراکسیز کا استعمال اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت جیسے واقعات بھی شدید تشویش کا باعث ہیں۔ یہ تمام اقدامات ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ اور اس کے پرتشدد حامیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔
🔊PR No.0️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 3, 2026
Press Remarks by the Spokesperson https://t.co/Iv3sVuoDk2
🔗⬇️ pic.twitter.com/MG2tg45bnJ
ترجمان نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی اور جابرانہ فوجی قبضے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی اور بھاری قیمت ادا کر کے طے پایا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کے حوالے سے بھارت کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھیں گے۔ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا۔
دیکھیں: پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی: شفاف اور شہری مرکوز نظام کی جانب تاریخی اقدامات