افغان حکام نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی درخواست اور رمضان المبارک کے احترام میں اکتوبر 2025 کی سرحدی کشیدگی کے دوران پکڑے گئے تین پاکستانی فوجیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ افغان حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق یہ فیصلہ “اسلامی امارت افغانستان” کی اس پالیسی کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھنا ہے۔
جاری بیان میں کہا گیا کہ رمضان المبارک، جو رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے، کی آمد کے پیشِ نظر اور برادر ملک سعودی عرب کی درخواست کے مثبت جواب میں ان اہلکاروں کو کابل آنے والے سعودی وفد کے حوالے کیا گیا۔ افغان مؤقف کے مطابق یہ اقدام خیر سگالی اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
In line with the policy of the Islamic Emirate of Afghanistan, which emphasizes maintaining positive relations with all countries, and in respect for the arrival of the blessed month of Ramadan; a month of divine mercy and forgiveness;
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) February 17, 2026
1/3
دوسری جانب سیکیورٹی ماہرین نے اس پیش رفت پر ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل اور دشوار گزار سرحدوں پر جھڑپوں کے دوران اہلکاروں کا سرحد پار چلے جانا یا حراست میں لیا جانا کوئی غیر معمولی امر نہیں، اور ماضی میں بھی ایسے تبادلے خاموش سفارتی رابطوں کے ذریعے ہوتے رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اس معاملے کو غیر معمولی انداز میں پیش کرنا اور اسے مذہبی مہینے کے ساتھ جوڑ کر نمایاں کرنا سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔
کچھ مبصرین نے افغان فورسز کے طرزِ عمل کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدس مہینوں کو سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں، خصوصاً ایسی حکومت کے لیے جو خود کو اسلامی ریاست قرار دیتی ہو۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے معاملات کو کم پروفائل سفارتی چینلز کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا تاکہ غیر ضروری تشہیر سے گریز کیا جا سکے۔
ایک تجزیہ کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ “سرحدی علاقوں میں ایسے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، لیکن انہیں داخلی مقبولیت یا سیاسی فائدے کے لیے نمایاں کرنا ایک نیا رجحان ہے۔” انہوں نے ساتھ ہی سعودی عرب کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاض کا کردار دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ رہائی کے عمل کو جس انداز میں پیش کیا گیا، وہ کسی باقاعدہ ریاستی طرزِ عمل سے زیادہ مسلح تنظیموں کی تشہیری حکمتِ عملی سے مشابہت رکھتا ہے۔ نقاب پوش وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے تحائف دیتے ہوئے مناظر جاری کرنا اور اس عمل کو نمایاں انداز میں پیش کرنا، بعض مبصرین کے نزدیک القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پروپیگنڈا طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے، جہاں قیدیوں کے تبادلے کو علامتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔
ان کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں بچھڑ جانے والے اہلکاروں کو “قیدی” قرار دے کر پیش کرنا اور اس پر سیاسی بیانیہ تشکیل دینا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ طرزِ حکمرانی اب بھی ایک منظم ریاست کے بجائے ایک مسلح گروہ جیسا ہے، جو سفارتی معاملات کو بھی داخلی تشہیر اور نظریاتی امیج سازی کے لیے استعمال کرتا ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی ثالثی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔