چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے 8 فروری کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کا عمل صرف پانچ بڑے رہنماؤں کی ملاقات تک محدود ہو جائے تو اسے سنجیدہ پیش رفت نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ نہ تو چند افراد کی ملاقات مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی اس کی کوئی حقیقی ضرورت ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ہر منگل کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے جاتی ہے، مگر ہر بار بغیر ملاقات کے واپس لوٹنا پڑتا ہے، جبکہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے کسی بھی رہنما کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملاقاتوں کو ہی متنازع بنا دیا جائے تو مذاکراتی عمل آگے کیسے بڑھ سکتا ہے، اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے غیر ضروری اور بھاری قیمت کیوں طلب کی جا رہی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ پارٹی 8 فروری کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے ذریعے بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج عوامی حقوق اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے اور پارٹی کارکنان اس میں بھرپور شرکت کریں گے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ حالات میں بہتری کے لیے بہنوں اور وکلا کی ملاقاتیں ناگزیر ہیں، اور جو افراد اور حلقے بہتری کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں، انہیں سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے عمران اسماعیل کے فون آنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
دیکھیں: بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ کی پاکستان آمد، پاک فضائیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پر اہم ملاقات