"> کل کے حریف آج ایک میز پر: پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کی سیاست کا نیا رخ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کل کے حریف آج ایک میز پر: پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کی بدلتی سیاست شدید تنقید

ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین بیانات دینے والی پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) آج سیاسی مفادات کے تحت ایک ہی میز پر براجمان ہیں، جس نے اصولوں کی سیاست پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کل کے حریف آج ایک میز پر: پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کی بدلتی سیاست شدید تنقید

پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے ماضی کے شدید الزامات اور موجودہ سیاسی نزدیکیوں نے عوامی حلقوں میں اصولوں، مفادات اور بدلتے سیاسی منظرنامے پر بحث چھیڑ دی ہے۔

August 24, 2026

پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان حالیہ سیاسی رابطوں نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماضی کے سخت سیاسی حریف آج ممکنہ تعاون اور مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی کے لیے ایک میز پر بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی کی سیاسی کشیدگی انتہائی شدید رہی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کو بارہا ڈیزل کے لقب سے پکارا گیا، جبکہ جے یو آئی ف کی قیادت کی جانب سے عمران خان کو یہودی ایجنٹ قرار دینے جیسے سخت الزامات بھی سامنے آئے۔

یہ محض سیاسی اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کی قیادت کی ذات، کردار اور سیاسی نظریات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ جلسوں، پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال ہوتی رہی اور کارکن بھی اسی سیاسی کشمکش کا حصہ بنتے رہے۔

ایک وقت تھا جب پی ٹی آئی کے جلسوں میں ڈیزل کا لقب سیاسی طنز کے طور پر بار بار دہرایا جاتا تھا، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے عمران خان کے خلاف یہودی ایجنٹ کا الزام اتنا نمایاں ہوا کہ عمران خان نے اس پر قانونی کارروائی کی بات بھی کی تھی۔

لیکن آج سیاسی منظرنامہ یکسر مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ وہی قیادتیں جو ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف انتہائی سخت مؤقف رکھتی تھیں، اب سیاسی رابطوں اور ممکنہ اتحاد کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھ رہی ہیں۔

یہ تبدیلی سیاسی مفادات اور اصولی سیاست کے درمیان فرق پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ اگر ماضی کے الزامات اور سخت بیانات سیاسی طور پر درست مؤقف تھے تو آج ان پر وضاحت یا نظرثانی کے بغیر سیاسی تعاون کیسے ممکن ہو رہا ہے؟

عوام کے لیے بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کل جن رہنماؤں اور جماعتوں کے خلاف کارکنوں کو صف آرا کیا جاتا تھا، آج وہی قیادتیں سیاسی ضرورت کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ رہی ہیں۔

یوں پی ٹی آئی اور جے یو آئی ف کی موجودہ قربت اس بات کو نمایاں کرتی ہیں کہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھا جا سکتا ہے وہ بھی تب جب ذاتی مفاد وابستہ ہو وگرنہ ریاست اور قوم کے لیے ایسی کوئی مثال ان دونوں جماعتوں کی جانب سے ہمیں نہیں ملتی۔

دیکھیے: مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مفاد کے ساتھ سیاسی قبلہ بدلنے کا الزام

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *