پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلافات اس وقت نمایاں ہو گئے جب رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر نے اپنی ہی جماعت کے اراکینِ پارلیمنٹ کے رویے پر کھلے عام ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔
قبل ازیں پی ٹی آئی کے اراکین پر مشتمل واٹس ایپ گروپ میں جاری کیے گئے وائس پیغامات کے مطابق جنید اکبر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلسل پارلیمانی بینچز پر اظہارِ خیال کے مواقع سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے اس صورتحال کو منظم روکاوٹ اور پارٹی کے اندر باہمی احترام کی کمی قرار دیا۔
جنید اکبر کا کہنا تھا کہ وہ ایسے فورم کا حصہ نہیں رہ سکتے جہاں ان کی آواز کو مؤثر انداز میں سنا نہ جائے۔ ان کے اس فیصلے کو پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور اختلافِ رائے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی پہلے ہی سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک کسی سینئر پارلیمنٹیرین کی جانب سے اس نوعیت کے تحفظات کا برسرِعام اظہار جماعت کے اندرونی نظم، یکجہتی اور موثر قیادت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس اندرونی بے چینی کو فوری اور دانشمندانہ طریقے سے دور نہ کیا گیا تو اس کے پارٹی کی پارلیمانی کارکردگی اور مجموعی سیاسی وقار پر دوررس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔