"> ماہرین نے پی ٹی آئی کو نظریات کے بجائے شخصیت پرستی کا شکار جماعت قرار دے دیا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ماہرین نے پی ٹی آئی کو نظریات کے بجائے شخصیت پرستی کا شکار جماعت قرار دے دیا

سیاسی تجزیہ نگاروں نے پی ٹی آئی کے تنظیمی رویوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی دیگر جماعتوں اور اپنے ہی مخلص رہنماؤں کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے محض ایک شخصیت کے گرد گھومنے والے ‘کلٹ’ کی صورت اختیار کر چکی ہے
سیاسی تجزیہ نگاروں نے پی ٹی آئی کے تنظیمی رویوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی دیگر جماعتوں اور اپنے ہی مخلص رہنماؤں کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے محض ایک شخصیت کے گرد گھومنے والے 'کلٹ' کی صورت اختیار کر چکی ہے

پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی رویوں پر سخت تنقید؛ صاحبزادہ حامد رضا جیسے اتحادیوں کی قربانیوں کو فراموش کرنے اور کارکنوں کے خاندانوں سے بے اعتنائی

February 21, 2026

پی ٹی آئی کی حالیہ سیاسی اقدامات اور تنظیمی رویوں نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی بتدریج ایک ایسی سیاسی اکائی میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں نہ تو دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے احترام کی گنجائش باقی رہی ہے اور نہ ہی اپنے اتحادیوں کی خدمات کی کوئی قدر کی جا رہی ہے۔

اتحادیوں اور کارکنوں سے بے اعتنائی

حالیہ واقعات میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پی ٹی آئی کے مشکل ترین وقت میں سب کچھ قربان کر دیا، مگر پارٹی کی تمام تر توجہ اور بیانیہ صرف عمران خان کی ذات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اس رویے نے یہ تاثر پختہ کر دیا ہے کہ پارٹی کو نہ تو اپنے اتحادی رہنماؤں کی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ ان کارکنوں اور ان کے خاندانوں کی فکر کر رہی ہے جنہوں نے جماعت کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

شخصی ‘کلٹ’ کا تاثر

سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کا مجموعی مزاج اب ایک روایتی سیاسی جماعت کے بجائے ایک مخصوص ‘کلٹ’ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں تنظیمی نظم و ضبط اور نظریاتی وابستگی کے بجائے صرف ایک فردِ واحد کی خوشنودی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کیا یہ امر ثابت کرنے کے لیے مزید کسی ثبوت کی ضرورت ہے کہ پارٹی کی پوری مشینری صرف عمران خان کے مفادات کے تحفظ کے لیے مخصوص ہو چکی ہے؟

اخلاقیات کا فقدان

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نہ صرف اپنے اندرونی حلقوں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی جمہوری احترام کے تقاضے نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ کارکنوں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے تحفظ سے لاپروائی نے پارٹی کے اندر بھی دبے لفظوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب کسی جماعت میں مخلص ساتھیوں کی قربانیوں کی جگہ شخصی ستائش لے لے تو وہ سیاسی عمل کے بجائے کسی مخصوص گروہی مفاد کی نذر ہو جاتی ہے۔

دیکھیے: صحت کے نام پر سیاست: ماہر ڈاکٹرز کی موجودگی کے باوجود پی ٹی آئی کا احتجاج بلاجواز قرار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *