پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ احتجاجی اقدامات پر تنقید کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سڑکیں بند کرنے اور عوامی نقل و حمل کو متاثر کرنے سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمبولینسوں میں تڑپتے مریض، روزگار سے محروم مزدور اور خواتین و بچوں کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں، جنہیں سیاسی مقاصد کے لیے قربان کیا گیا۔
ماہرین اور پی ٹی آئی کے نامزد معالجین کی موجودگی میں عمران خان کا طبی معائنہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ہوا، اور اسے “ذاتی معالجوں کی رسائی سے محرومی” قرار دینا بد نیتی اور جھوٹ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی اس شکل نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو کمزور کیا اور سیاسی مقاصد کو عام شہریوں کی مشکلات پر فوقیت دی گئی۔
حکام نے مزید کہا کہ کیپی کے حساس مسائل، جن میں قومی سلامتی اور دہشت گردی کے پس منظر سے جڑے معاملات شامل ہیں، کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا ریاست اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی توہین ہے۔ حالیہ واقعات میں صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران دو سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، جن کی قربانیوں کو سیاسی بیانیے کی ڈھال بنانے کو سراسر زیادتی قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی طرف سے احتجاجی ہنگاموں کی منصوبہ بندی میں عوام کی سہولیات کو نظر انداز کیا گیا اور احتجاج کی شدت نے صوبائی نظام کو معطل کر دیا، جس سے سیاسی مقاصد کے لیے شہریوں کی مشکلات کو استعمال کیا گیا۔