ارمان لونی کی چھٹی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے دعویٰ کیا ہے کہ وادیٔ تیراہ اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں جاری عسکری کارروائیاں عام شہریوں کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔ پی ٹی ایم یوکے کی جانب سے شیئر کیے گئے بیان میں منظور پشتین کا کہنا تھا کہ اگرچہ سرکاری سطح پر ان کارروائیوں کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز قرار دیا جا رہا ہے، تاہم دور دراز دیہات اور پہاڑی علاقوں میں تباہی، روزمرہ زندگی میں خلل اور بچوں و نوجوانوں کے لیے خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
منظور پشتین کے مطابق ایسے حالات تعلیم، شہری تحفظ اور سماجی استحکام کو کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ کارروائیوں میں ضبط، درست نشانہ بندی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے پارلیمنٹ، فوجی و سول انتظامیہ اور مقامی جرگوں پر بھی زور دیا کہ وہ شہری حقوق کے تحفظ، شفافیت اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں مقامی آبادی کی شمولیت کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
پی ٹی ایم رہنما نے اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کے بیانیے کو دہراتے ہوئے کہا کہ دیرپا امن کے لیے ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے، اور یہی ان کی تحریک کا بنیادی مؤقف ہے۔
دوسری جانب سیکیورٹی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بشمول وادیٔ تیراہ، میں جاری کارروائیاں بلا امتیاز نہیں بلکہ مکمل طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہیں، جن کا ہدف مسلح شدت پسندوں کے ٹھکانے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ شدت پسند نیٹ ورکس سرحد پار حملوں اور مسلسل عدم تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے اصول آپریشنل منصوبہ بندی کا لازمی حصہ ہوتے ہیں اور کارروائیاں وسیع یا سزا دینے والی نوعیت کی نہیں بلکہ محدود اور ہدفی ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق صرف سیکیورٹی اقدامات سے پیدا ہونے والی عارضی مشکلات پر توجہ دینا، ان مسلح نیٹ ورکس کے خطرے کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جو دشوار گزار علاقوں اور غیر محفوظ سرحدوں کے قریب سرگرم ہیں۔
حکام کے مطابق سال 2025 کے دوران صوبے بھر میں دسیوں ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں ہزاروں شدت پسندوں کو ناکارہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں کو مسلح ٹھکانوں کے خاتمے کی ایک مسلسل اور منظم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اور سول حکام نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ اور ضم شدہ اضلاع میں شہری فلاح سے متعلق متوازی اقدامات جاری ہیں، جن میں بحالی، معاوضے کے پروگرام اور سڑکوں، اسکولوں اور صحت کے مراکز میں سرمایہ کاری شامل ہے، تاکہ معمولاتِ زندگی بحال کیے جا سکیں اور طویل المدتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
اگرچہ حکام اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نقل مکانی اور مشکلات ایک حقیقت ہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ یہ زیادہ تر شدت پسندوں کی طویل موجودگی کا نتیجہ ہیں، نہ کہ ریاستی ارادے کا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق وادیٔ تیراہ اور پورے خیبرپختونخوا میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کیے جائیں، گورننس کو مضبوط بنایا جائے اور ترقیاتی عمل میں مقامی آبادی کی بامعنی شمولیت یقینی بنائی جائے۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ سیاسی تحریکوں اور سول سوسائٹی کی تعمیری شمولیت اہم ہے، تاہم ایسے بیانیے جو شدت پسندی کے عنصر کو نظر انداز کریں، عدم استحکام کی اصل وجوہات کو دھندلا دیتے ہیں اور پائیدار امن کے قیام میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔
دیکھیے: افغانستان میں غیر پشتون علاقوں میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش، جائیدادوں کی خریدو فروخت اور کرایہ داری انٹیلی جنس کی منظوری سے مشروط