ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال یا لاشوں کو جلانے جیسے الزامات بین الاقوامی انسانی قانون اور جنگی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کو پاکستان نے سختی سے مسترد کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں، نہ کہ شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کے خلاف۔ یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ کالعدم نیٹ ورکس شہری آبادی میں گھل مل کر کارروائیاں کرتے ہیں تاکہ کسی بھی جوابی اقدام کے بعد انسانی نقصان کو بیانیاتی ہتھیار بنایا جا سکے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں اس کے کسی اہلکار یا شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔ طالبان حکام کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دو سال کے دوران یہ تیسرا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے، پہلا تیجس طیارہ 2024 میں بھارتی ریاست راجستھان میں گر کر تباہ ہوا تھا، جب کہ دوسرا طیارہ گزشتہ سال دبئی ایئر شو میں زمین بوس ہو گیا تھا۔
انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے سی ٹی ڈی ٹیم کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کی کوششوں کے اعتراف میں نقد انعام کا اعلان کیا۔ سی ٹی ڈی حکام نے واضح کیا کہ صوبے میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں بغیر کسی تفریق کے جاری رہیں گی اور ریاستی اداروں کے خلاف عناصر کے لیے صفر برداشت کی پالیسی برقرار رہے گی۔