پاکستان میں سونے اور تانبے کے بڑے ریکوڈک منصوبہ کے لیے امریکہ نے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ مالی معاونت امریکی برآمدی و درآمدی بینک کے ناگزیر معدنیاتی نظامِ سرمایہ کاری کے تحت منظور کی گئی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر مستقبل کی ٹیکنالوجی اور توانائی کی منتقلی کے لیے درکار اہم خام مال کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
ریکوڈک منصوبہ اور عالمی سرمایہ کاری
ریکوڈک کے لیے مختص یہ رقم ‘پروجیکٹ والٹ’ کا حصہ ہے، جو دس ارب ڈالر کا ایک وسیع تر پروگرام ہے جس کا مقصد اہم معدنیات کے تزویراتی ذخائر کو مستحکم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ جو حکومتِ پاکستان اور ایک کینیڈین کمپنی کے اشتراک سے زیرِ تعمیر ہے، مجموعی طور پر تین ارب 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا متقاضی ہے۔ کثیر الجہتی مالیاتی ڈھانچے کی شمولیت سے اس منصوبے کی ساکھ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے مالیاتی خطرات میں کمی اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کے معدنیاتی شعبے پر اعتماد بحال ہوا ہے۔
بلوچستان کی ترقی اور معاشی اثرات
تزویراتی لحاظ سے یہ سرمایہ کاری پاکستان کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں سڑکوں کے جال، توانائی کی فراہمی اور نقل و حمل کے نظام جیسے بنیادی ڈھانچے کو بھی وسعت ملے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کو محض خام مال نکالنے والے ملک کے بجائے صنعتی پیداوار اور دھات سازی کی صنعت کی جانب لے جائے گا، جس سے ملکی معیشت میں قدرِ اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
مزید برآں، امریکہ کی جانب سے اتنی بڑی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے مستقبل کی عالمی فراہمی کے سلسلے اور ڈیجیٹل ڈھانچے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف تجارتی شراکت داروں میں تنوع آئے گا بلکہ معاشی لچک میں اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر غیر دریافت شدہ معدنی ذخائر کی ترقی کے لیے بھی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔
دیکھیے: سعودی عرب پاکستان کے اہم شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری کے لیے پُرعزم