مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران وائٹ ہاؤس سے سامنے آنے والے حالیہ مناظر نے بین الاقوامی سیاست کے تجزیہ کاروں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ‘اوول آفس’ میں پادریوں کے ایک وفد کو مدعو کر کے اجتماعی دعاؤں کا اہتمام امریکی سیاسی مرکز میں ایک غیر معمولی اور شاذ و نادر دیکھا جانے والا منظر تھا۔
کئی عالمی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ تقریب کسی رسمی سیاسی ملاقات کے بجائے ایک ‘روحانی یا تعویذاتی رسم’ کی مانند دکھائی دے رہی تھی، جس کا مقصد ممکنہ طور پر جنگی حالات کو مذہبی تقدس فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب ریاستیں جغرافیائی و سیاسی تنازعات کو مذہبی رنگ دینا شروع کر دیتی ہیں، تو اس کے نتائج سفارتی حل کے بجائے نظریاتی تصادم کی صورت میں نکلتے ہیں، جو عالمی امن کے لیے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگی بیانیے میں مذہب کی شمولیت ایک ایسے دور کا آغاز ہو سکتا ہے جہاں عقل و دانش اور سفارت کاری کے بجائے مذہبی جذبات کو جنگی ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ دوسری جانب، سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ طنزیہ بحث بھی چھڑی ہوئی ہے کہ شاید دیگر اتحادی رہنما، بشمول شہباز شریف، واشنگٹن میں ہونے والی اس “روحانی محفل” کا حصہ نہ بن پانے پر ملال محسوس کر رہے ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اس قسم کی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مستقبل کی عالمی سیاست میں مذہب کا کارڈ اب باقاعدہ ایک تزویراتی (Strategic) ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔