آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ ایرانی حکومت کی خاموشی اس امکان کو تقویت دے رہا ہے کہ اصل شخصیت کے بجائے ان کا ہم شکل نشانہ بنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ تاحال تہران کی وضاحت کا طلب گار ہے

March 5, 2026

جے ایف-17 تھنڈر پاکستان کی دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کا محور بن گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل سے ہٹ کر اسلحہ سازی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے

March 5, 2026

وزارتِ اطلاعات نے بندرگاہوں کی 10 مارچ تک بندش سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے

March 5, 2026

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترکمانستانی سفیر سے ملاقات میں توانائی، تجارت اور ٹاپئی گیس منصوبے سمیت سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور دیا

March 5, 2026

و جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ کے نشپا بلاک سے یومیہ 3765 بیرل تیل اور ایک کروڑ 12 لاکھ مکعب فٹ گیس کی بڑی دریافت کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے سعودی اور اماراتی ہم منصبوں سے رابطے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کے لیے نمائندہ خصوصی بھیجنے کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

معروف ماہر تعلیم عارفہ سیدا زہرا انتقال کر گئیں

ان کی وفات نے پاکستانی علمی، ادبی اور تعلیمی حلقوں کو گہرے رنج میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں انہیں نہ صرف ایک استاد بلکہ ایک مشعلِ راہ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
معروف ماہر تعلیم عارفہ سیدا زہرا انتقال کر گئیں

انھوں نے بیان کیا کہ ان کی زندگی کے تین بڑے عشق تھے: “پاکستان، اردو زبان اور لاہور”۔

November 10, 2025

عارفہ سیدا زہرا انتقال کر گئیں۔ معروف تعلیم دان، مورخہ، ادبی محقق اور حقوقِ نسواں کی علمبردار ڈاکٹر عارفہ سیدا زہرا نے پاکستان میں تعلیم، اردو زبان و ادب، خواتین کے حقوق اور ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے عمرِ بھر خدمات سر انجام دی ہیں۔ انھوں نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور یونیورسٹی آف ہوائی مینوا سے اپنی اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور پھر تقریباً نصف صدی پر محیط تدریسی، تحقیقی اور ادبی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے میں ایک روشن نقوش چھوڑا۔

ڈاکٹر زہرا نے اردو زبان کے فروغ میں بے حد شدت سے کام کیا۔ انھوں نے بیان کیا کہ ان کی زندگی کے تین بڑے عشق تھے: “پاکستان، اردو زبان اور لاہور”۔ادبی مباحثوں، سیمنارز اور تعلیمی فورمز میں وہ اردو ادب، علمی تاریخ اور تنقیدی مطالعہ کی معتبر آواز بن کر ابھریں۔ انھیں یونیسیف، نیشنل کالج آف آرٹس اور دیگر اداروں کی جانب سے بھی نمایاں اعزازات سے نوازا گیا۔

تعلیم و تدریس کے علاوہ، ڈاکٹر زہرا نے قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن کے طور پر کام کیا اور پاکستانی معاشرے میں جنس، ادب اور سماجی عدل کے موضوعات کو پُراثر انداز میں اٹھایا۔ ان کی علمی تحریریں، لیکچرز اور عوامی تقریریں آج بھی طلبہ و طالبات، ادیبوں اور معاشرتی کارکنوں کے لیے رہنمائی کا باعث ہیں۔

ان کی وفات نے پاکستانی علمی، ادبی اور تعلیمی حلقوں کو گہرے رنج میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں انہیں نہ صرف ایک استاد بلکہ ایک مشعلِ راہ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر ارفع سیدا زہرہ کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کا مشورہ کہ “اردو ہماری ثقافتی میراث ہے، اسے زندہ رکھنا ہمارا فرض” آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہوگا۔

دیکھیں: شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 148 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

متعلقہ مضامین

آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ ایرانی حکومت کی خاموشی اس امکان کو تقویت دے رہا ہے کہ اصل شخصیت کے بجائے ان کا ہم شکل نشانہ بنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ تاحال تہران کی وضاحت کا طلب گار ہے

March 5, 2026

جے ایف-17 تھنڈر پاکستان کی دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کا محور بن گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل سے ہٹ کر اسلحہ سازی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے

March 5, 2026

وزارتِ اطلاعات نے بندرگاہوں کی 10 مارچ تک بندش سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے

March 5, 2026

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترکمانستانی سفیر سے ملاقات میں توانائی، تجارت اور ٹاپئی گیس منصوبے سمیت سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور دیا

March 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *