ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور سکیورٹی خطرات زیر بحث۔

September 1, 2026

لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو باہر نکال لیا گیا، فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔

September 1, 2026

پاکستان 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے۔

September 1, 2026

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 18 دہشت گرد ہلاک کردیئے، فائرنگ کے دوران کیپٹن عبید شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

رائٹرز کی رپورٹ مسترد؛ یو اے ای سے پاکستانیوں کی ملک بدری کو مسلکی رنگ دینے کی کوشش بے نقاب

متحدہ عرب امارات میں قانونی خلاف ورزیوں پر ہونے والی اماراتی کاروائی کو رائٹرز کی جانب سے مسلکی رنگ دینے کی کوشش کو وزارتِ داخلہ نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بیانیاتی ہیرا پھیری قرار دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں قانونی خلاف ورزیوں پر ہونے والی اماراتی کاروائی کو رائٹرز کی جانب سے مسلکی رنگ دینے کی کوشش کو وزارتِ داخلہ نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بیانیاتی ہیرا پھیری قرار دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی ملک بدری پر رائٹرز کی رپورٹ کے فرقہ وارانہ زاویے پر تحفظات سامنے آئے ہیں، جبکہ سرکاری وضاحت کے مطابق یہ اقدامات قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں۔

May 25, 2026

بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک رائٹرز کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی شہریوں کی ملک بدری کے معاملے کو ایک مخصوص فرقہ وارانہ اور مسلکی زاویے سے پیش کرنے کی کوشش سامنے آئی ہے، جسے سفارتی، اسٹریٹجک اور سرکاری حلقوں نے شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے ایک سوچی سمجھی پروپیگنڈا حکمتِ عملی قرار دیا ہے۔

رائٹرز کی جانب سے 25 مئی 2026 کو جاری کی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران جنگ اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں یو اے ای سے پاکستانی شیعہ شہریوں کو نشانہ بنا کر ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، گہرے اسٹریٹجک جائزے اور متبادل حقائق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس رپورٹ کا بنیادی مقصد پاکستان کے اندر اندرونی مسلکی تناؤ کو منتقل کرنا اور خلیجی دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی تعلقات کو کمزور کرنا ہے۔

یکساں قانونی نظام

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے حکام اپنے ملک میں مقیم تمام غیر ملکی تارکینِ وطن پر رہائشی، مالیاتی، سائبر اور سیکیورٹی قوانین یکساں طور پر نافذ کرتے ہیں، جس میں مسلک یا قومیت کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ اگرچہ اماراتی حکومت کی جانب سے ملک بدری سے متعلق مکمل، مربوط اور تفصیلی ڈیٹا عوامی سطح پر فراہم نہیں کیا جاتا، تاہم یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وہاں قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک (بشمول بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ) کے شہریوں کے خلاف بھی اسی نوعیت کی قانونی کارروائیاں اور بے دخلی کے اقدامات تواتر کے ساتھ پیش آتے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی یا انتظامی خلاف ورزیوں سے جڑی کسی بھی عام ملک بدری کو خود بخود فرقہ وارانہ تعصب قرار دینا صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ خود رائٹرز نے اپنی تحریر میں یہ تسلیم کیا ہے کہ اماراتی حکام نے اپنے کسی بھی سرکاری موقف میں فرقہ وارانہ بنیادوں کا کوئی ذکر نہیں کیا، اور نہ ہی وہ آزادانہ طور پر اس بات کا کوئی ثبوت پیش کر سکا ہے کہ ان کارروائیوں کا معیار مسلک تھا۔ اس کے باوجود رپورٹ کی سرخی اور متن کو جس مخصوص لب و لہجے میں ڈھالا گیا، وہ صریحاً بیانیاتی ہیرا پھیری کی تعریف میں آتا ہے۔

وزارتِ داخلہ کا مؤقف

پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے اس گمراہ کن بیانیے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پہلے ہی باضابطہ طور پر یہ واضح کر دیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے ہونے والی یہ ملک بدریاں خالصتاً وہاں کے مقامی ضوابط، ویزا قوانین اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق یو اے ای کی حکومت کی جانب سے کسی بھی شخص کو مسلک یا فرقے کی بنیاد پر ملک بدر نہیں کیا گیا۔

مزید برآں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک بدری کی مجموعی تعداد میں کوئی غیر معمولی یا سنسنی خیز اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے، جو کہ رائٹرز کے ان مبالغہ آمیز دعووں کی نفی کرتا ہے جن میں مجلس وحدت المسلمین جیسے مقامی گروہوں کے غیر تصدیق شدہ ڈیٹا بیس کے حوالے سے ہزاروں افراد کی مسلکی بنیادوں پر بے دخلی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اطلاعاتی جنگ کے پوشیدہ مقاصد

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چند انفرادی اور قانونی کیسز کو اکٹھا کر کے انہیں ایک منظم مسلکی کریک ڈاؤن کے طور پر پیش کرنا دراصل اس اطلاعاتی جنگ کو تقویت دینا ہے جو پاکستان کے اندرونی استحکام کو متاثر کرنے کے لیے بیرونی عناصر کی جانب سے لڑی جا رہی ہے۔ اس وقت تقریباً 1.8 ملین (18 لاکھ) پاکستانی شہری تمام تر مسالک اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے کے باوجود متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں انتہائی پرامن، محفوظ اور سازگار ماحول میں روزگار حاصل کر رہے ہیں، اور سالانہ 6 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر پاکستان بھیج کر ملکی معیشت میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایسے میں حقوقِ انسانی کی تنظیموں، جیسے ہیومن رائٹس واچ یا جنیوا کے مینا رائٹس گروپ کے کندھے پر بندوق رکھ کر جاری کی جانے والی ایسی یکطرفہ رپورٹس کا مقصد صرف خلیجی دوست ملکوں اور پاکستان کے درمیان سفارتی خلیج پیدا کرنا ہے۔ پائیدار حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ اقدامات ریگولیٹری نوعیت کے ہیں، اور انہیں کسی بھی علاقائی پراکسی یا ایران جنگ کے حالات سے جوڑنا محض ایک مشکوک اطلاعاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

متعلقہ مضامین

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور سکیورٹی خطرات زیر بحث۔

September 1, 2026

لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو باہر نکال لیا گیا، فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *