پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ‘ریاستِ مدینہ’ کے مقدس نام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور اس کے داعی کے ذاتی و خاندانی تضادات پر ایک نئی اور سنگین بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ عوامی اور سماجی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جو شخص اپنے ہی بچوں کی بنیادی اسلامی تربیت کرنے اور انہیں مسلمان بنانے میں ناکام رہا، وہ پاکستان جیسے عظیم ملک کو ‘ریاستِ مدینہ’ کے سانچے میں ڈھالنے کا دعویٰ کس بنیاد پر کر رہا ہے؟
ہر مذہب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کا عملی نمونہ انسان کی اپنی ذات اور اس کے گھر سے شروع ہوتا ہے۔ پاکستان میں مختلف مکاتبِ فکر کے عام پیروکار بھی اپنے بچوں کی مذہبی تربیت کو زندگی کا اولین مقصد سمجھتے ہیں اور انہیں حقیقی مسلمان بنانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے قوم کو ‘ریاستِ مدینہ’ کا خواب دکھانا اور دوسری جانب ان کے اپنے بچوں کا اسلامی شعائر اور اقدار سے مکمل طور پر نابلد ہونا، ایک ایسے تضاد کو جنم دیتا ہے جسے ناقدین ‘قوم کو چونا لگانے’ کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
مذہبی اسکالرز کا کہنا ہے کہ ریاستِ مدینہ کا بنیاد تقویٰ، عمل اور کردار پر مبنی تھا، نہ کہ محض سیاسی لفاظی پر۔ ایک ایسے شخص کی جانب سے اسلامی نظام کی باتیں کرنا جس کا اپنا خاندان غیر اسلامی تہذیب کا عملی نمونہ ہو، عوام کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق، یہ اس دور کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ایک شخص جس نے اپنے گھر میں اسلام کی شمع روشن نہیں کی، وہ کروڑوں مسلمانوں کو ‘امربالمعروف’ کا سبق پڑھا رہا ہے۔
عوامی حلقوں میں اب یہ رائے زور پکڑتی جا رہی ہے کہ ‘ریاستِ مدینہ’ کا نام صرف اقتدار کے حصول اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ جو شخص اپنے بچوں کو کلمہ گو نہ بنا سکا، اس کے منہ سے اسلامی نظام کی باتیں محض ایک ‘سیاسی ڈھونگ’ ہیں جس کا مقصد سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانا ہے۔