طالبان حکومت کے نائب وزیرِ دفاع برائے حکمتِ عملی و پالیسی محمد فرید نے روس کے نائب وزیرِ دفاع واسیلی اوسماکوف سے اپنے دورۂ روس کے دوران اہم ملاقات کی۔ ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق ملاقات کے بعد روس نے طالبان حکومت کو فوجی توپیں، تربیت، انٹیلی جنس معلومات کا اشتراک اور پولیس کی تربیت فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔
مذکورہ ملاقات ماسکو میں عمل میں آئی، جس میں فریقین نے علاقائی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور فوجی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا مرکزی محور افغانستان میں عسکریت پسندانہ خطرات کا سدباب اور منشیات کی غیرقانونی اسمگلنگ کو روکنا تھا، جو روس کے لیے ایک اہم سلامتی مسئلہ ہے۔ ملاقات کے اختتام پر فریقین نے ایک مربوط اور مستقل تعاون کا ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے آئندہ مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا، جس میں ممکنہ فوجی تعاون یا سلامتی معاہدے کا مسودہ تیار کرنا بھی شامل ہے۔
تاہم، قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ روس نے اب تک طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، حالانکہ وہ کابل میں اپنا سفارتی عملہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور سلامتی و اقتصادی امور پر بات چیت جاری رکھی ہوئی ہے۔