لاہور شہر کے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والا ماں اور کمسن بیٹی کے مین ہول میں گرنے کا المناک واقعہ بالآخر درست ثابت ہو گیا ہے، جہاں ماں کی لاش کے بعد معصوم بچی کی نعش بھی برآمد کر لی گئی۔ یہ سانحہ نہ صرف شہری سلامتی کے انتظامات بلکہ متعلقہ اداروں کے ابتدائی غیر ذمہ دارانہ رویے پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر گیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے بعد پانچ مختلف مقامات پر وسیع تلاش و بچاؤ آپریشن کیا گیا۔ کمسن بچی کی لاش اسی مین ہول سے ملی جہاں سے کئی گھنٹے قبل اس کی والدہ کی لاش نکالی گئی تھی۔
واقعے کی ابتدائی خبر موصول ہونے پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) اور ریسکیو 1122 نے اسے بے بنیاد قرار دے دیا تھا۔ مزید یہ کہ پولیس نے مکمل تفتیش کا انتظار کیے بغیر متاثرہ بچی کے والد کو حراست میں لے لیا، جسے تقریباً چھ گھنٹے بعد رہا کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے ابتداء میں معاملے کو “گھریلو تنازعہ” کا نام دیتے ہوئے شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا تھا، لیکن بعد میں حقائق کی تصدیق ہونے پر انہیں اپنا مؤقف تبدیل کرنا پڑا۔
لاہور انتظامیہ نے خاتون کی لاش چند گھنٹے کے اندر ڈھونڈ لی تھی، تاہم معصوم بچی کی لاش برآمد ہونے میں پندرہ گھنٹے سے زائد عرصہ لگا۔ اس تاخیر پر شہری حلقوں کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
واقعے کے بعد شہریوں اور سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف ذمہ دار اداروں اور افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، بلکہ شہر بھر میں کھلے اور غیر محفوظ مین ہولز کی فوری نشاندہی، مرمت اور مستقل بندش کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دل دہلا دینے والے سانحات سے بچا جا سکے۔
دیکھیے: گل پلازہ: کراچی کا جلتا دل اور حکمرانوں کی بےحسی