افغانستان میں طالبان کی جانب سے فارسی اور ازبکی زبان کے اخراج کا عمل مزید تیز ہو گیا ہے۔ مقامی طالبان ذرائع نے ولایت سمنگان سے تصدیق کی ہے کہ اس گروہ نے سمنگان یونیورسٹی کے نئے نصب کردہ سائن بورڈ سے فارسی اور اوزبیکی زبان کے الفاظ حذف کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے تازہ سائن بورڈ پر اب صرف پشتو زبان استعمال کی گئی ہے، جبکہ ماضی میں ادارے کا نام فارسی اور اوزبیکی زبانوں میں بھی درج تھا۔ یہ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے، جس میں کسی سرکاری تعلیمی ادارے سے فارسی اور اوزبیکی زبانوں کو باضابطہ طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، مبصرین کا کہنا ہے کہ گروہ نے زبان اور ثقافت سے متعلق پالیسیوں میں واضح تبدیلیاں کی ہیں۔ طالبان انتظامیہ نے اپنی حکمرانی کے دوران فارسی اور اوزبیکی زبانوں کے استعمال کو محدود کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
لسانی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، افغانستان جیسے کثیراللسانی ملک میں کسی ایک زبان کو فوقیت دینا سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ زبانوں کا یہ اخراج نہ صرف اقلیتی شناخت کو کمزور کرتا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کے غیر جانبدار کردار پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔
تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس اقدام کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت یا بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق اس نوعیت کی تبدیلیاں دیگر تعلیمی اداروں میں بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔
دیکھیں: افغان مہاجرین سے متعلق ماہرہ خان کا بیان اور پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خدشات