"> بابری مسجد کے بعد اب سنبھل مسجد مودی سرکار کے نشانے پر - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بابری مسجد کے بعد اب سنبھل مسجد مودی سرکار کے نشانے پر

ہندو انتہا پسند تنظیوں کے دعوے پر عدالت نے سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دیا۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا
ہندو انتہا پسند تنظیوں کے دعوے پر عدالت نے سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دیا، جبکہ مسلمانوں نے اپنے مؤقف کے اظہار کا موقع نہ ملنے پر اعتراض کیا۔

عدالتی فیصلے کے نتیجے میں علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور ڈرون کے ذریعے نگرانی جاری ہے

December 31, 2025

بابری مسجد کے بعد اب اترپردیش کی سنبھل شاہی جامع مسجد مودی سرکار کے نشانے پر ہے، آر ایس ایس اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیمیں جامع مسجد سنبھل کو شہید کرنے کے درپے ہیں۔

انتہا پسند ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ سنبھل مسجد کی جگہ پہلے ہری ہر مندر تھا۔ بھارتی عدالت نے صدیوں پرانی مسجد سے متصل قبرستان کے سروے کا حکم دے دیا جس کے بعد سرکاری ٹیمیں سروے کیلئے موقع پر پہنچ گئیں ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو مسلم کشیدگی کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ نیز اترپردیش پولیس ڈرون کی مدد سے علاقے کی نگرانی کررہی ہے۔

تنازعے کی وجہ
سروے کا حکم ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر دیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسجد کی جگہ پہلے ایک ہندو مندر موجود تھا۔ مسجد کی انتظامیہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

سیاسی ردعمل
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فریقین کو سنے بغیر کارروائی کی ہے جو مزید انتشار کا سبب بنا۔ اسی طرح سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے سروے میں جلد بازی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن انتخابات کے بعد ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آئینی تحفظ
شاہی جامع مسجد کو 1920 میں قدیم آثار کے تحفظ کے قانون اور 1991 کے عبادت گاہوں کے ایکٹ کے تحت محفوظ قرار دیا جا چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے بعد ایسے تنازعات خطے میں مذہبی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔

دیکھیں: بھارت کے مسافر اور کارگو طیاروں کے ذریعے ٹی ٹی پی کو افغانستان میں ہتھیار فراہم کرنے کے شواہد منظر عام پر آ گئے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *