افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمانوں اور بعض افغان ذرائع ابلاغ کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاکستان کے خلاف جو الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے سرحدی علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ اس کی کارروائیاں کسی بھی صورت عام شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ سرحد پار موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور عسکری نیٹ ورکس کے خلاف ہوتی ہیں جو پاکستان کی سلامتی کو مسلسل خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
افغان ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات کو مبصرین “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے نتیجے میں 80 ہزار سے زائد شہری اور سکیورٹی اہلکار کھوئے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ان حملوں کی ہے جو تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسے گروہوں نے کیے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان گروہوں کے کئی ٹھکانے افغان سرزمین پر موجود رہے ہیں جہاں سے وہ سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
صرف 2025 کے اعداد و شمار ہی اس خطرے کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان کے مطابق افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی عناصر کی کارروائیوں کے نتیجے میں 1957 افراد ہلاک اور 3603 زخمی ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں 3079 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ایسے حالات میں پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کا مقصد صرف دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے تاکہ ملک کے شہریوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ بیانات یا سوشل میڈیا مہم نہیں بلکہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔ جب تک ان ٹھکانوں کے خلاف موثر اقدامات نہیں کیے جاتے، خطے میں کشیدگی کم ہونا مشکل رہے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دہشت گرد عناصر کو ختم کرنے کے بجائے ہر کارروائی کو سیاسی یا پروپیگنڈا رنگ دیا جائے تو اس سے مسئلے کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ پاکستان کا مؤقف یہی ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں نہ ملیں اور اس معاملے میں سنجیدہ اور مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔