افغان ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات کو مبصرین “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

March 7, 2026

سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا مسترد؛ اے پی ایس سانحے کے سہولت کار کا پاکستانی ایٹمی پروگرام پر بیان اسرائیلی ایجنڈے کا حصہ قرار

March 7, 2026

جنگ ابھی جاری ہے اور اس کے نتائج مکمل طور پر سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس جنگ کے بطن سے ایسی تبدیلیاں جنم لے سکتی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک کی سیاست اور معیشت کو ایک نئے رخ پر ڈال دیں۔

March 7, 2026

ضلع لکی مروت میں بھی دھماکے کے دو الگ واقعات پیش آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ایک واقعے میں پولیس امن کمیٹی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں کم از کم دو افراد جاں بحق جبکہ سات زخمی ہوئے۔

March 7, 2026

افغانستان کے شہر مزار شریف اور کابل میں خواتین نے طالبان کے خلاف وال چاکنگ اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر مختلف خواتین تنظیموں نے طالبان کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا

March 7, 2026

افغانستان کے صوبہ پکتیا میں طالبان مخالف تنظیم ایم این ایف کے حملے میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور افغان طالبان کے 5 اہلکار ہلاک جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔ حملے میں طالبان کی رینجرز گاڑی بھی تباہ ہوگئی

March 7, 2026

حمد اللہ فطرت کے پاکستان کی جانب سے افغان شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے حکام نے مسترد کر دیے

افغان ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات کو مبصرین “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔
حمد اللہ فطرت کے پاکستان کی جانب سے افغان شہریوں کو نشانی بنائے جانے کے دعوے حکام نے مسترد کر دیے

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ بیانات یا سوشل میڈیا مہم نہیں بلکہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔ جب تک ان ٹھکانوں کے خلاف موثر اقدامات نہیں کیے جاتے، خطے میں کشیدگی کم ہونا مشکل رہے گا۔

March 7, 2026

افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمانوں اور بعض افغان ذرائع ابلاغ کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاکستان کے خلاف جو الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے سرحدی علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ اس کی کارروائیاں کسی بھی صورت عام شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ سرحد پار موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور عسکری نیٹ ورکس کے خلاف ہوتی ہیں جو پاکستان کی سلامتی کو مسلسل خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

افغان ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات کو مبصرین “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے نتیجے میں 80 ہزار سے زائد شہری اور سکیورٹی اہلکار کھوئے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ان حملوں کی ہے جو تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسے گروہوں نے کیے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان گروہوں کے کئی ٹھکانے افغان سرزمین پر موجود رہے ہیں جہاں سے وہ سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

صرف 2025 کے اعداد و شمار ہی اس خطرے کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان کے مطابق افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی عناصر کی کارروائیوں کے نتیجے میں 1957 افراد ہلاک اور 3603 زخمی ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں 3079 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ایسے حالات میں پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کا مقصد صرف دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے تاکہ ملک کے شہریوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ بیانات یا سوشل میڈیا مہم نہیں بلکہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔ جب تک ان ٹھکانوں کے خلاف موثر اقدامات نہیں کیے جاتے، خطے میں کشیدگی کم ہونا مشکل رہے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دہشت گرد عناصر کو ختم کرنے کے بجائے ہر کارروائی کو سیاسی یا پروپیگنڈا رنگ دیا جائے تو اس سے مسئلے کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ پاکستان کا مؤقف یہی ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں نہ ملیں اور اس معاملے میں سنجیدہ اور مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔

متعلقہ مضامین

سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا مسترد؛ اے پی ایس سانحے کے سہولت کار کا پاکستانی ایٹمی پروگرام پر بیان اسرائیلی ایجنڈے کا حصہ قرار

March 7, 2026

جنگ ابھی جاری ہے اور اس کے نتائج مکمل طور پر سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس جنگ کے بطن سے ایسی تبدیلیاں جنم لے سکتی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک کی سیاست اور معیشت کو ایک نئے رخ پر ڈال دیں۔

March 7, 2026

ضلع لکی مروت میں بھی دھماکے کے دو الگ واقعات پیش آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ایک واقعے میں پولیس امن کمیٹی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں کم از کم دو افراد جاں بحق جبکہ سات زخمی ہوئے۔

March 7, 2026

افغانستان کے شہر مزار شریف اور کابل میں خواتین نے طالبان کے خلاف وال چاکنگ اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر مختلف خواتین تنظیموں نے طالبان کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا

March 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *