قندھار رجیم اور کابل حکومت کی جانب سے افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی عدم موجودگی کے دعوے ایک بار پھر خود فتنہ خوارج کے بیانات سے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پر فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کی موجودگی کا ایک بڑا اور ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنوری کے پہلے ہفتے افغانستان میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بعد فتنہ خوارج کے اہم گروپ جماعت الاحرار کے سرکردہ رہنما مکمل شاہ عرف سربکف مہمند نے ایک پیغام جاری کیا، جس میں افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کی بالواسطہ تصدیق کی گئی ہے۔ جاری کردہ ویڈیو پیغام میں سربکف مہمند نے افغانستان سے پاکستان جا کر دہشت گردی کرنے والے عناصر کو پاکستان آنے کے بجائے افغانستان میں ہی رہنے کا پیغام دیا۔
ویڈیو میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ افغانستان میں ایک “اسلامی نظام” قائم ہے اور اسے مضبوط کرنا ان کی ذمہ داری ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فتنہ خوارج کے دہشت گرد افغانستان میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ منظم انداز میں سرگرم بھی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان اختلافات اور علیحدگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو ان اختلافات کی عملی تصدیق بھی کرتی ہے۔ ویڈیو میں سربکف مہمند نے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے بجائے عمر خراسانی کا نام لیا، جو اندرونی اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ سربکف مہمند اس سے قبل بھی ٹی ٹی پی قیادت پر سنگین الزامات عائد کرتا رہا ہے، جن میں خود کو زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کا الزام بھی شامل ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ تازہ ویڈیو نہ صرف فتنہ خوارج کے باہمی اختلافات کو آشکار کرتی ہے بلکہ کابل حکومت کے اس مؤقف کو بھی کمزور کرتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے بعد بین الاقوامی برادری پر لازم ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے زمینی حقائق کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
دیکھیں: طالبان کی جانب سے عوامی مظاہروں پر تشدد کے مبینہ واقعات؛ اے ایف ایف کی شدید مذمت