خیبرپختونخوا پولیس، ایلیٹ فورس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کبل گرام کے پہاڑی علاقوں میں مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے سرغنہ سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں نور اسلام بھی شامل ہے جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔
آپریشن کے دوران دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک دہشت گرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس بھرپور کاروائی کے دوران پولیس کے تین بہادر اہلکاروں مقبول احمد، فدا حسین اور سعید الرحمان نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ کبل گرام میں ان دہشت گردوں کی موجودگی کسی بڑی تخریب کاری کی منصوبہ بندی کا حصہ تھی جسے بروقت ناکام بنا دیا گیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ گروہ ماضی میں چینی باشندوں پر ہونے والے حملوں میں بھی ملوث رہا ہے اور اس نیٹ ورک کا خاتمہ انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج کے منظم نیٹ ورک کو پہنچنے والا یہ نقصان ریاست کے اس غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ شہید جوانوں کی قربانیوں کو قومی سلامتی کے تحفظ کی روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: کینیڈا میں بھارتی نژاد مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن اور تشویش