پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے قانونی معاملات کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کی کوششیں ایک مرتبہ پھر زیربحث ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے متعین کردہ لابیز اور سیاسی حلقے عمران خان کو “سیاسی قیدی” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ ملکی عدالتیں انہیں مجرم قرار دے چکی ہیں۔ ملکی عدالتی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے بیرونی ممالک میں معصومیت کا تأثر دینا قانونی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ قانون کی عملداری تمام شہریوں کے لیے یکساں ہے اور عمران خان سمیت کسی کو اس سے استثنیٰ حاصل نہیں۔
پی ٹی آئی کا مستقل حربہ عدالتی احکامات کو “ظالمانہ کارروائی” یا سیاسی بدلے کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اس سلسلے میں یہ لابیز بیرون ملک پاکستان کے عدالتی ڈھانچے کی مسخ شدہ تصویر پیش کرتے ہیں، انسانی حقوق کے نعرے لگاتے ہیں اور ایسے غیرملکی قانون سازوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اسرائیلی موقف یا ایل جی بی ٹی ایجنڈے کی واضح حمایت کرتے ہیں۔ یہ عمل درحقیقت “بیانیہ سازی” کی ایک کوشش ہے جس کا مقصد حقیقت کو مسخ کرکے سیاسی فوائد حاصل کرنا ہے۔
پی ڈبلیو اے اور اس سے وابستہ افراد بشمول محلقہ سمدانی، اکثر انسانی حقوق کے کارکن کے بجائے سیاسی لابیسٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی غیرملکی قانون سازوں سے ملاقاتیں اور مفاد پر مبنی مذاکرات پاک۔ امریکہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ وہ انہیں اصولی موقف یا انسانی حقوق کے تحفظ کا نام دیتے ہیں۔
عمران خان کی جیل میں موجودگی کے باوجود ان کی سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ وہ مسلسل پیغامات جاری کرتے رہتے ہیں، قید سے ہی پارٹی ہدایات دیتے ہیں اور اب تک 800 سے زائد افراد سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ متعدد مقدمات میں ان کی سزائیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں، لیکن بیرونی لابیز اب بھی “مظلومیت” کے بیانیے پر زور دے رہے ہیں۔ یہ مہم انسانی حقوق کے نام پر چلنے والا ایک سیاسی ڈراما ہے جس میں پی ڈبلیو اے نے کھل کر حصہ لیا ہے۔
انسانی حقوق کی وکالت اس وقت مشکوک ہو جاتی ہے جب یہ منتخبیت کا شکار ہو۔ عمران خان کے معاملے پر تو زوردار مہمیں چلائی جاتی ہیں، لیکن غزہ کے فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی پر مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے غیرملکی اتحادیوں اور لابیز کا انتخاب نظریاتی ہم آہنگی اور سیاسی سہولت کے اصولوں پر ہوتا ہے، جبکہ اخلاقی استقامت اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات یکسر نظرانداز ہوتے ہیں۔
دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا