...
افغان صحافی فضل الرحمن اوریاخیل نے ‘ٹولو نیوز’ پر پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کی اپیل کرتے ہوئے بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کی کھلی حمایت کر دی ہے

February 13, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2816 منظور کرتے ہوئے مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ میں 12 ماہ کی توسیع کر دی ہے، جو افغانستان میں جڑ پکڑتے دہشت گرد نیٹ ورکس اور طالبان کی وعدہ خلافیوں پر عالمی مایوسی کی عکاسی کرتی ہے

February 13, 2026

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی قیادت میں افغانستان کو انتہا پسند عسکری تحریکوں کے لیے ایک محفوظ نظریاتی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں “مقدس جدوجہد” کے نام پر نوجوانوں کی منظم ذہن سازی کی جا رہی ہے

February 13, 2026

پاکستان نے اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دستاویز کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی افغان سرزمین پر موجودگی اور وہاں سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں اسلام آباد کے مؤقف کی تصدیق کرتی ہے

February 13, 2026

پنجاب فاریسٹ ڈپارٹمنٹ 14 فروری کو راولپنڈی اور مری کے اضلاع میں مارگلہ جنگلات کی بحالی کے لیے ایک وسیع البنیاد شجرکاری پروگرام منعقد کر رہا ہے، جس کے تحت 50 ہزار پودے لگائے جائیں گے

February 13, 2026

ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں سست روی کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے دوسرے ایٹمی طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعیناتی کی تیاریاں مکمل کر لیں

February 13, 2026

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کا نظریاتی ایجنڈا اور افغانستان میں انتہا پسندی کا نیا عسکری ڈھانچہ

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی قیادت میں افغانستان کو انتہا پسند عسکری تحریکوں کے لیے ایک محفوظ نظریاتی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں “مقدس جدوجہد” کے نام پر نوجوانوں کی منظم ذہن سازی کی جا رہی ہے
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی قیادت میں افغانستان کو انتہا پسند عسکری تحریکوں کے لیے ایک محفوظ نظریاتی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں "مقدس جدوجہد" کے نام پر نوجوانوں کی منظم ذہن سازی کی جا رہی ہے

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے زیرِ اثر افغانستان میں انتہاء پسند عسکری تحریکوں کی سرپرستی اور نوجوانوں کی 'مقدس جدوجہد' کے لیے منظم ذہن سازی عروج پر پہنچ چکی ہے

February 13, 2026

افغانستان میں جاری حالیہ نظریاتی تبدیلیاں اور عسکری گروہوں کے مابین بڑھتی ہوئی ہم آہنگی نے عالمی اور علاقائی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امیرِ طالبان شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی قیادت میں افغانستان کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ انتہا پسند اسلام پسند عسکری تحریکوں کی حمایت اور نظریاتی ہم آہنگی کا ایک عالمی مرکز بنایا جا رہا ہے۔ فاریاب کے صوبے کے شمالی علاقے اندخوی میں ایک جہادی ادارے کی فارغ التحصیل تقریب کے دوران ہونے والا حالیہ واقعہ اس سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایک مقرر نے حماس کے سابق ترجمان کے انداز میں ملبوس ہو کر خود کو “ابو عبیدہ” قرار دیا اور حاضرین سے “کافروں کے خلاف بغاوت” کی کھلی اپیل کی۔

یہ واقعہ اس امر کی دلیل ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے دورِ اقتدار میں انتہا پسندی کو ایک باقاعدہ ریاستی اور تعلیمی ڈھانچے کی صورت دی جا رہی ہے۔ اس بیانیے کا بنیادی مقصد افغان نوجوانوں کو نظامِ شریعت کی سخت ترین اور متشدد تعبیر نافذ کرنے کے لیے منظم طریقے سے “مقدس جدوجہد” کی طرف راغب کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی مقاصد کے لیے بنائے گئے عوامی پلیٹ فارمز پر اس طرح کی اشتعال انگیز تقاریر اب کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا ادارہ جاتی منصوبہ ہے جس کے تحت انتہا پسندی کو مذہبی اصطلاحات کی آڑ میں سماجی قبولیت فراہم کی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار اس نظریاتی پھیلاؤ کی وسعت کو واضح کرتے ہیں۔ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں مسلکی و تعصب پر مبنی اداروں کی تعداد تقریباً 13,000 سے بڑھ کر 23,000 سے زائد ہو چکی ہے، جبکہ ان اداروں میں زیرِ تعلیم طلباء کی تعداد 1.5 ملین سے تجاوز کر کے تقریباً 3 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تیز رفتار اضافہ اس ادارہ جاتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد نوجوان نسل کو عسکری رنگ میں ڈھالنا اور شیخ ہیبت اللہ کے نظریات کے مطابق ان کی فکری آبیاری کرنا ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف افغانستان کے اندرونی حالات بلکہ پورے خطے کے لیے طویل مدتی انتہا پسندی اور عدم استحکام کے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ انتہا پسندانہ تحریکوں کو حاصل یہ فکری اور نظریاتی پشت پناہی سرحد پار دہشت گردی کو ہوا دے سکتی ہے، جس سے ہمسایہ ممالک کی سلامتی براہِ راست متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اس منظم ذہن سازی اور انتہا پسند عسکری تحریکوں کی ہم آہنگی کو نہ روکا گیا تو یہ خطے میں تشدد کی ایک نئی اور زیادہ خطرناک لہر کو جنم دے سکتی ہے۔

دیکھیے: روس کا افغان تاجک سرحدی صورتحال سخت تشویش کا اظہار

متعلقہ مضامین

افغان صحافی فضل الرحمن اوریاخیل نے ‘ٹولو نیوز’ پر پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کی اپیل کرتے ہوئے بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کی کھلی حمایت کر دی ہے

February 13, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2816 منظور کرتے ہوئے مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ میں 12 ماہ کی توسیع کر دی ہے، جو افغانستان میں جڑ پکڑتے دہشت گرد نیٹ ورکس اور طالبان کی وعدہ خلافیوں پر عالمی مایوسی کی عکاسی کرتی ہے

February 13, 2026

پاکستان نے اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دستاویز کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی افغان سرزمین پر موجودگی اور وہاں سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں اسلام آباد کے مؤقف کی تصدیق کرتی ہے

February 13, 2026

پنجاب فاریسٹ ڈپارٹمنٹ 14 فروری کو راولپنڈی اور مری کے اضلاع میں مارگلہ جنگلات کی بحالی کے لیے ایک وسیع البنیاد شجرکاری پروگرام منعقد کر رہا ہے، جس کے تحت 50 ہزار پودے لگائے جائیں گے

February 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.