افغانستان میں جاری حالیہ نظریاتی تبدیلیاں اور عسکری گروہوں کے مابین بڑھتی ہوئی ہم آہنگی نے عالمی اور علاقائی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امیرِ طالبان شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی قیادت میں افغانستان کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ انتہا پسند اسلام پسند عسکری تحریکوں کی حمایت اور نظریاتی ہم آہنگی کا ایک عالمی مرکز بنایا جا رہا ہے۔ فاریاب کے صوبے کے شمالی علاقے اندخوی میں ایک جہادی ادارے کی فارغ التحصیل تقریب کے دوران ہونے والا حالیہ واقعہ اس سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایک مقرر نے حماس کے سابق ترجمان کے انداز میں ملبوس ہو کر خود کو “ابو عبیدہ” قرار دیا اور حاضرین سے “کافروں کے خلاف بغاوت” کی کھلی اپیل کی۔
یہ واقعہ اس امر کی دلیل ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے دورِ اقتدار میں انتہا پسندی کو ایک باقاعدہ ریاستی اور تعلیمی ڈھانچے کی صورت دی جا رہی ہے۔ اس بیانیے کا بنیادی مقصد افغان نوجوانوں کو نظامِ شریعت کی سخت ترین اور متشدد تعبیر نافذ کرنے کے لیے منظم طریقے سے “مقدس جدوجہد” کی طرف راغب کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی مقاصد کے لیے بنائے گئے عوامی پلیٹ فارمز پر اس طرح کی اشتعال انگیز تقاریر اب کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا ادارہ جاتی منصوبہ ہے جس کے تحت انتہا پسندی کو مذہبی اصطلاحات کی آڑ میں سماجی قبولیت فراہم کی جا رہی ہے۔
Afghan Taliban in Northern Afghanistan Call for “Revolt Against Infidels”
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) February 12, 2026
At a graduation ceremony for a jihadi madrassa in Andkhoy, in northern Faryab province, a speaker dressed in the style of Hamas’ late spokesperson identified himself as “Abu Ubaidah” and urged attendes to… pic.twitter.com/drF6JSDoxT
اعداد و شمار اس نظریاتی پھیلاؤ کی وسعت کو واضح کرتے ہیں۔ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں مسلکی و تعصب پر مبنی اداروں کی تعداد تقریباً 13,000 سے بڑھ کر 23,000 سے زائد ہو چکی ہے، جبکہ ان اداروں میں زیرِ تعلیم طلباء کی تعداد 1.5 ملین سے تجاوز کر کے تقریباً 3 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تیز رفتار اضافہ اس ادارہ جاتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد نوجوان نسل کو عسکری رنگ میں ڈھالنا اور شیخ ہیبت اللہ کے نظریات کے مطابق ان کی فکری آبیاری کرنا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف افغانستان کے اندرونی حالات بلکہ پورے خطے کے لیے طویل مدتی انتہا پسندی اور عدم استحکام کے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ انتہا پسندانہ تحریکوں کو حاصل یہ فکری اور نظریاتی پشت پناہی سرحد پار دہشت گردی کو ہوا دے سکتی ہے، جس سے ہمسایہ ممالک کی سلامتی براہِ راست متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اس منظم ذہن سازی اور انتہا پسند عسکری تحریکوں کی ہم آہنگی کو نہ روکا گیا تو یہ خطے میں تشدد کی ایک نئی اور زیادہ خطرناک لہر کو جنم دے سکتی ہے۔