افغان وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کے خلاف شدید جارحانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ “آخری وارننگز کا وقت ختم ہو چکا ہے”۔ کابل میں دورانِ خطاب انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی اعلیٰ قیادت نے سنجیدہ کاروائی کا فیصلہ کیا تو “پاکستان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گا۔”
سراج حقانی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی بڑھ رہی ہے اور پاکستان مسلسل کابل سے اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک ذمہ دار منصب پر فائز شخص کی جانب سے پڑوسی ملک کے وجود کو مٹانے کی دھمکی نہ صرف بین الاقوامی سفارتی آداب کے منافی ہے بلکہ یہ کابل کی اعلیٰ قیادت کی ذہنی بوکھلاہٹ کا بھی عکاس ہے۔
Sirajuddin Haqqani, Afghanistan’s Interior Minister, said “FINAL ULTIMATUMS are over” and WARNED that if senior leadership decides on serious action, there would be “NO trace of Pakistan left.” 🔥 pic.twitter.com/xqtmZndooC
— Megh Updates 🚨™ (@MeghUpdates) February 23, 2026
دفاعی ماہرین نے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی “گیدڑ بھبکیاں” زمینی حقائق سے مکمل طور پر چشم پوشی ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت اور مضبوط دفاعی صلاحیت کا حامل ملک ہے، جبکہ افغانستان اس وقت شدید اندرونی عدم استحکام، معاشی بحران اور نسلی اجارہ داری جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل حکومت اپنی اندرونی ناکامیوں اور دہشت گرد گروہوں کو لگام دینے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے جذباتی اور غیر حقیقی بیانات کا سہارا لے رہی ہے۔
حقانی کے اس بیان نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ کابل میں موجود بعض عناصر خطے میں امن کے بجائے تصادم کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دھمکیاں دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سرد مہری کو دشمنی میں بدل سکتی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو ہی پہنچے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن اور استحکام کی حمایت کی ہے، تاہم کابل کی جانب سے حالیہ عرصے میں مسلسل ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جو پڑوسی ملک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے بجائے معاندانہ روش کی عکاسی کرتے ہیں۔