معروف امریکی جریدے فارن افیئرز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران میں کامیاب سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

July 21, 2026

امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 100 امریکی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

July 21, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف عسکری تحاریک بدخشاں سے آگے بڑھ کر کاپیسا اور دیگر علاقوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کر رہی ہیں۔

July 21, 2026

نئی دہلی میں نیت پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران طلبہ نے بھارتی وزیر تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔

July 21, 2026

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ اور یادگارِ شہداء کا دورہ کیا اور شہدائے پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

July 21, 2026

متحدہ مدارس کونسل نے پاک فوج اور شہداء کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات کو ان کا ذاتی سیاسی مؤقف قرار دیتے ہوئے مدارس اور علما کے باضابطہ بیانیے سے الگ کر دیا۔

July 21, 2026

لاپتہ افراد کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب: “لاپتہ” سلیم بلوچ بی ایل اے کا دہشت گرد کمانڈر نکلا

بلوچستان میں “لاپتہ افراد” کے نام پر چلائی جانے والی مہمات کا پول اس وقت کھل گیا جب بی وائی سی کی جانب سے برسوں “لاپتہ” قرار دیے جانے والے سلیم بلوچ کو بی ایل اے نے اپنا دہشت گرد کمانڈر تسلیم کر لیا، جس سے ان تنظیموں کا جھوٹا بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے
بلوچستان میں "لاپتہ افراد" کے نام پر چلائی جانے والی مہمات کا پول اس وقت کھل گیا جب بی وائی سی کی جانب سے برسوں "لاپتہ" قرار دیے جانے والے سلیم بلوچ کو بی ایل اے نے اپنا دہشت گرد کمانڈر تسلیم کر لیا، جس سے ان تنظیموں کا جھوٹا بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے

بلوچ یکجہتی کونسل اور پانک کے جھوٹے بیانیے کا پردہ چاک؛ دہشت گرد کمانڈر سلیم بلوچ کی شناخت ظاہر ہونے کے بعد بلوچستان حکومت نے دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے خاندانوں کے خلاف بھی قانونی ایکشن کا انتباہ جاری کر دیا ہے

February 24, 2026

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے دہائیوں سے جاری پروپیگنڈے کو اس وقت بے نقاب ہوا جب بلوچ لبریشن آرمی نے سلیم بلوچ نامی شخص کو اپنا کمانڈر قرار دے کر اس کی ہلاکت پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ وہی سلیم بلوچ ہے جسے بلوچ یکجہتی کونسل اور پانک جیسے گروہ برسوں سے “لاپتہ شخص” قرار دے کر سکیورٹی فورسز کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔

سفارتی اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق سلیم بلوچ کی حقیقت سامنے آنے سے یہ واضح ثبوت مل گیا ہے کہ “لاپتہ افراد” کا بیانیہ دراصل بی وائی سی اور پانک جیسی تنظیموں کی جانب سے اپنی سرپرست دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کو قانونی و عوامی تحفظ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس انکشاف نے ان تنظیموں کے اس جھوٹے بیانیے کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ہے جس کے ذریعے عالمی برادری اور مقامی عوام کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر بلوچستان حکومت اور سکیورٹی فورسز نے انتہائی سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ حکام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اب “لاپتہ افراد” کے لبادے میں دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر کسی خاندان کا کوئی فرد دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کی فوری اطلاع حکام کو دی جائے، بصورتِ دیگر اس فیملی کے خلاف بھی قانونی ایکشن لیا جائے گا کیونکہ علم ہونے کے باوجود اطلاع نہ دینا جرم کی معاونت کے زمرے میں آتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلیم بلوچ کے واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست کے خلاف برسرِ پیکار عناصر انسانی حقوق کی تنظیموں کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مجرمانہ ایجنڈے کو چھپاتے ہیں۔ اس جھوٹے بیانیے کے بے نقاب ہونے کے بعد اب عوامی سطح پر بھی ان تنظیموں کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو لاپتہ افراد کے نام پر دہشت گردی کی سہولت کاری میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

معروف امریکی جریدے فارن افیئرز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران میں کامیاب سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

July 21, 2026

امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 100 امریکی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

July 21, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف عسکری تحاریک بدخشاں سے آگے بڑھ کر کاپیسا اور دیگر علاقوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کر رہی ہیں۔

July 21, 2026

نئی دہلی میں نیت پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران طلبہ نے بھارتی وزیر تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔

July 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *