تصور کریں! خیبر، راجن پور، یا تھرپارکر کی ایک روشن خیال اور باصلاحیت لڑکی جس کے میٹرک میں 90 فیصد نمبر آئے ہیں، مگر اس کا تعلیمی سفر صرف اس لیے وہیں دم توڑ دیتا ہے کیونکہ قریب ترین گرلز یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت میں ہے۔ یا سوچیں اس نوجوان کے بارے میں جو اٹک یا ڈیرہ غازی خان سے ایک غلط رزلٹ کارڈ کی تصدیق کروانے کے لیے بسوں کے دھکے کھا کر، ہزاروں روپے لٹا کر لاہور یا کراچی کے تعلیمی بورڈ کے چکر کاٹتا ہے۔ یہ محض فرضی کہانیاں نہیں ہیں، یہ پاکستان کے کروڑوں طلبہ کا روزمرہ کا المناک سچ ہے۔
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کا سب سے بڑا تعلیمی بحران جھیل رہا ہے۔ یونیسکو اور حالیہ تعلیمی سروے کے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت 2 کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔۔۔ جو دنیا میں دوسرا سب سے بڑا عدد ہے۔ اس سے بھی زیادہ دردناک سچائی یہ ہے کہ جو طلبہ تمام تر مشکلات کے باوجود میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تک پہنچتے ہیں، ان میں سے صرف 10 سے 12 فیصد طلبہ ہی یونیورسٹی کی سطح تک پہنچ پاتے ہیں۔ آخر یہ خوفناک ڈراپ آؤٹ ریٹ کیوں ہے؟ اس کا سب سے بڑا مجرم ہمارا حد سے زیادہ مرکزی، غیر متوازن اور بوسیدہ انتظامی نظام ہے۔
پاکستان کے چار بڑے صوبائی مراکز تمام تر فنڈز اور یونیورسٹیوں کو اپنے اندر نگل لیتے ہیں۔ بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا 44 فیصد ہے، وہاں محض ایک دو بڑے شہروں میں اعلیٰ تعلیم کا مرکز ہونا باقی تمام اضلاع کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ اسی طرح پنجاب کے 12 کروڑ سے زائد انسانوں کا انتظامی بوجھ اکیلے لاہور پر ڈال دینا ناانصافی ہے۔ جب تک ہم ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس تشکیل نہیں دیں گے، ہمارے طلبہ یونہی فاصلوں اور غربت کی سولی پر چڑھتے رہیں گے۔
ہمارے معاشرتی اور ثقافتی ڈھانچے میں، والدین سیکیورٹی، ہاسٹل کے اخراجات اور طویل سفر کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو تنہا دوسرے شہر بھیجنے سے شدید ہچکچاتے ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی خواتین میں اعلیٰ تعلیم کی شرح بمشکل 12 فیصد کے قریب ہے۔
اگر ہم ہر ڈویژن اور زون کو نیا انتظامی یونٹ بنا دیں، تو وہاں قانوناً اور پالیسی کے تحت نئی ڈگری کالجز اور یونیورسٹیاں قائم کرنا ریاست کی مجبوری بن جائے گا۔ جب معیاری تعلیم لڑکیوں کو ان کے اپنے ضلع اور شہر میں ملے گی، تو کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کے خوابوں کا گلا نہیں گھونٹے گا۔
جدید اسکل سینٹرز
موجودہ دور محض کاغذ کے ٹکڑوں (ڈگریوں) کا نہیں بلکہ ہنر کا ہے۔ آکسفورڈ اور عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ آئندہ دہائی میں 60 فیصد سے زائد روایتی نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔ چھوٹے انتظامی یونٹس بننے سے ہر نئے انتظامی مرکز میں آئی ٹی پارکس، گرلز ووکیشنل سینٹرز، اور فری لانسنگ اکیڈمیز کا جال بچھایا جا سکے گا۔ اس سے ہماری طالبات اور نوجوان گھر بیٹھے انٹرنیٹ اور آئی ٹی کی دنیا سے جڑ کر ڈالرز کما سکیں گے اور اپنے خاندان کو معاشی طور پر بااختیار بنا سکیں گے۔
موجودہ دور میں ایک عام پاکستانی خاندان کے لیے مہنگائی کے اس دور میں اپنے بچے کو دوسرے شہر کے ہاسٹل میں رکھنا (جس کا ماہانہ خرچ 30,000 سے 50,000 روپے ہے) ناممکن ہو چکا ہے۔ دور دراز سے تعلیمی بورڈز یا دفاتر کا سفر ہزاروں روپے اور کئی دنوں کی خواری کا باعث بنتا ہے۔ چھوٹے یونٹس کا سیدھا مطلب ہے: ہر علاقے کا اپنا تعلیمی بورڈ، اپنا ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ اور اپنا امتحانی مرکز۔ یعنی طلبہ کا وقت، پیسہ اور عزائم ضائع ہونے سے بچ جائیں گے۔
منصفانہ تقسیم
موجودہ صوبائی کوٹہ سسٹم میں “دیہی اور شہری” کی تقسیم اتنی مبہم ہے کہ پسماندہ اضلاع کا کوٹہ بھی اکثر بڑے شہروں کی گود میں چلا جاتا ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے بعد کوٹہ سسٹم کی بنیاد بلدیاتی اور مقامي ہو جائے گی۔ اس سے حقیقی پسماندہ لیکن انتہائی محنتی اور قابل طلبہ کو میڈیکل، انجینئرنگ اور سی ایس ایس جیسے قومی مقابلوں میں ان کا شرعی اور آئینی حق مل سکے گا۔
پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ “یوتھ ڈیویڈنڈ” ہمارا سب سے بڑا اثاثہ بن سکتا تھا، لیکن موجودہ انتظامی سستی نے اسے ایک بم بنا دیا ہے۔
چھوٹے انتظامی یونٹس کا مطالبہ کسی سیاسی جماعت کا نعرہ یا جغرافیائی تقسیم کی سازش نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے کروڑوں طلبہ کی بقا، ہماری بیٹیوں کی بااختیاری اور ایک روشن، جدید پاکستان کی بنیادی شرط ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے انتظامی ڈھانچے کو چھوٹے، بااختیار اور فعال یونٹس میں نہ ڈھالا، تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کی تعلیمی نسل کشی کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ اختیارات، فنڈز اور یونیورسٹیاں لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے ایوانوں سے نکل کر پاکستان کے ہر بچے کے گھر کی دہلیز تک پہنچیں!